🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجموعه ضعيف احاديث سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

قبر پر پانی چھڑکنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 749
رش قبر النبى صلى الله عليه وسلم وكان الذى رش الماء على قبره بلال بن رباح، بدأ من قبل رأسه حتى انتهى إلى رجليه
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر (پانی) چھڑکا گیا۔ بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر مشکیزے سے پانی چھڑکا۔ انہوں نے سر کی جانب سے چھڑکاؤ شروع کیا اور پاؤں کی جانب تک پانی چھڑکا۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 749]
تخریج الحدیث: { «ضعيف» }:
[بيهقي فى السنن الكبري 411/3] امام شوکانی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ دو وجوہات کی بنا پر اس روایت سے استدلال درست نہیں؛ پہلی یہ کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے فعل میں کوئی حجت نہیں اور دوسری یہ کہ اس کی سند میں واقدی راوی ہے اور اس کے متعلق کلام معروف ہے۔ [السيل الجرار 721/1]
واقدی راوی کے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم رحمہ الله نے کہا ہے کہ یہ متروک ہے۔
امام احمد رحمہ الله نے اسے کذاب کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ احادیث بدل دیتاتھا۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس کے متعلق کہا ہے کہ اس میں ضعف ہے اور امام ابن عدی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی احادیث محفوظ نہیں ہیں۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: [ميزان الاعتدال 273/6 برقم 7999]

الحكم على الحديث:
ضعيف


Majmua Zaeef Ahadith Hadith 749 in Urdu