بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(کھانے کے متعلق احادیث)
حدیث نمبر: 1146
وعن عبد الرحمن بن عثمان القرشي رضي الله عنه: أن طبيبا سأل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الضفدع بجعلها في دواء، فنهى عن قتلها. أخرجه أحمد وصححه الحاكم.
سیدنا عبدالرحمٰن بن عثمان قرشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کے بطور دوا استعمال کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کرنے سے منع فرمایا۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1146]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:3 /499، وصححه الحاكم:4 /411 ووافقه الذهبي، وأبوداود، الطب، باب في الأدوية المكروهة، حديث:3871، والنسائي، الصيد، حديث:4360.»
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
4360
| طبيبا ذكر ضفدعا في دواء عند رسول الله فنهى رسول الله عن قتله |
سنن أبي داود |
3871
| طبيبا سأل النبي عن ضفدع يجعلها في دواء فنهاه النبي عن قتلها |
سنن أبي داود |
5269
| طبيبا سأل النبي عن ضفدع يجعلها في دواء فنهاه النبي عن قتلها |
بلوغ المرام |
1146
| طبيبا سال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الضفدع بجعلها في دواء، فنهى عن قتلها |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 1146 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1146
تخریج:
«أخرجه أحمد:3 /499، وصححه الحاكم:4 /411 ووافقه الذهبي، وأبوداود، الطب، باب في الأدوية المكروهة، حديث:3871، والنسائي، الصيد، حديث:4360.» تشریح:
اس حدیث کی رو سے مینڈک دوا میں استعمال کرنے کی غرض سے مارنا بھی ممنوع ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ یہ حرام ہے۔
اگرچہ یہ پانی کا جانور ہے مگر ہفتوں اور مہینوں پانی کے بغیر بھی زندہ رہتا ہے‘ اس لیے مچھلی کے حکم سے خارج ہے۔
«أخرجه أحمد:3 /499، وصححه الحاكم:4 /411 ووافقه الذهبي، وأبوداود، الطب، باب في الأدوية المكروهة، حديث:3871، والنسائي، الصيد، حديث:4360.»
اس حدیث کی رو سے مینڈک دوا میں استعمال کرنے کی غرض سے مارنا بھی ممنوع ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ یہ حرام ہے۔
اگرچہ یہ پانی کا جانور ہے مگر ہفتوں اور مہینوں پانی کے بغیر بھی زندہ رہتا ہے‘ اس لیے مچھلی کے حکم سے خارج ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1146]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4360
مینڈک کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوا میں مینڈک کا تذکرہ کیا تو آپ نے اسے مار ڈالنے سے روکا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4360]
عبدالرحمٰن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوا میں مینڈک کا تذکرہ کیا تو آپ نے اسے مار ڈالنے سے روکا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4360]
اردو حاشہ:
(1) مینڈک کے متعلق حکم شریعت یہ ہے کہ وہ حرام ہے۔ بوقت ضرورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔ آپ کا اجازت نہ دینا ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے۔
(2) مینڈک اگرچہ آبی جانور ہے لیکن یہ پانی سے باہر بھی زندہ رہ سکتا ہے بلکہ عرصہ دراز تک باہر پھرتا رہتا ہے، لہٰذا اسے آبی جانوروں والا حکم نہیں دیا جاسکتا، یعنی اسے حلال نہیں کہا جائے گا۔
(3) ”منع فرما دیا“ مقصد یہ ہے کہ مینڈک کو دوا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ قتل کیے بغیر تو اسے دوا میں ڈالنے سے رہے۔ جب قتل حرام ہے تو اس کو بطور دوا استعمال کرنا بھی حرام ہے کیونکہ یہ پلید جانور ہے یا کم از کم قابل نفرت تو ضرور ہے۔ تبھی آپ نے اس کے قتل سے منع فرمایا۔ قتل سے نہی بھی حرمت کی علامت ہے۔
(1) مینڈک کے متعلق حکم شریعت یہ ہے کہ وہ حرام ہے۔ بوقت ضرورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔ آپ کا اجازت نہ دینا ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے۔
(2) مینڈک اگرچہ آبی جانور ہے لیکن یہ پانی سے باہر بھی زندہ رہ سکتا ہے بلکہ عرصہ دراز تک باہر پھرتا رہتا ہے، لہٰذا اسے آبی جانوروں والا حکم نہیں دیا جاسکتا، یعنی اسے حلال نہیں کہا جائے گا۔
(3) ”منع فرما دیا“ مقصد یہ ہے کہ مینڈک کو دوا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ قتل کیے بغیر تو اسے دوا میں ڈالنے سے رہے۔ جب قتل حرام ہے تو اس کو بطور دوا استعمال کرنا بھی حرام ہے کیونکہ یہ پلید جانور ہے یا کم از کم قابل نفرت تو ضرور ہے۔ تبھی آپ نے اس کے قتل سے منع فرمایا۔ قتل سے نہی بھی حرمت کی علامت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4360]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3871
ناجائز اور مکروہ دواؤں کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک طبیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3871]
عبدالرحمٰن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک طبیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3871]
فوائد ومسائل:
مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کا دوا وغیرہ میں استعمال بھ حرام ہے۔
اگرچہ یہ پانی کا جانور ہے، مگر ہفتوں اور مہینوں پانی کے بغیر بھی زندہ رہتا ہے، اس لیئے مچھلی کے حکم سے خارج ہے۔
مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کا دوا وغیرہ میں استعمال بھ حرام ہے۔
اگرچہ یہ پانی کا جانور ہے، مگر ہفتوں اور مہینوں پانی کے بغیر بھی زندہ رہتا ہے، اس لیئے مچھلی کے حکم سے خارج ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3871]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5269
مینڈک مارنے کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن عثمان سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کو دوا میں استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5269]
عبدالرحمٰن بن عثمان سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کو دوا میں استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5269]
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ اس کا کھانا حلال نہیں ہے اور یہ پانی کے ان جانوروں میں شمار نہیں جن کا کھانا حلال ہے۔
(عون المعبود)
اس حدیث سے معلوم ہواکہ اس کا کھانا حلال نہیں ہے اور یہ پانی کے ان جانوروں میں شمار نہیں جن کا کھانا حلال ہے۔
(عون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5269]
Bulughul Maram Hadith 1146 in Urdu