بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
دعویٰ اور دلائل کا بیان
حدیث نمبر: 1211
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم عرض على قوم اليمين فأسرعوا فأمر أن يسهم بينهم في اليمين أيهم يحلف. رواه البخاري.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم پر قسم پیش کی تو وہ قسم کھانے پر فوراً تیار ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ” ان لوگوں میں قرعہ اندازی کی جائے کہ کون ان میں سے قسم کھائے گا۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 1211]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الشهادات، باب إذا تسارع قوم في اليمين، حديث:2674.»
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2674
| أمر أن يسهم بينهم في اليمين أيهم يحلف |
بلوغ المرام |
1211
| فاسرعوا فامر ان يسهم بينهم في اليمين ايهم يحلف |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 1211 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1211
تخریج:
«أخرجه البخاري، الشهادات، باب إذا تسارع قوم في اليمين، حديث:2647.» تشریح:
جس مقدمے کی نوعیت ایسی ہو کہ فریقین مدعی ہوں اور دونوں باہم مدعا علیہ بھی ہوں، بالفاظ دیگر حتمی اور یقینی طور پر اس کا علم نہ ہو سکے کہ مدعی کون ہے اور مدعا علیہ کون؟ تو ایسی صورت میں دونوں کو قسم دینے کا حق پہنچتا ہے۔
اگر ان میں سے کوئی قسم سے انکاری ہو تو فریق مخالف قسم دے کر مال اپنے قبضہ میں لے لے گا اور اگر دونوں فریق قسم اٹھانے پر آمادہ ہوں تو پھر اس صورت میں قرعہ اندازی کی جائے گی۔
قرعہ جس کے نام نکلے وہ قسم دے کر مال لے جانے کا مستحق قرار پائے گا۔
«أخرجه البخاري، الشهادات، باب إذا تسارع قوم في اليمين، حديث:2647.»
جس مقدمے کی نوعیت ایسی ہو کہ فریقین مدعی ہوں اور دونوں باہم مدعا علیہ بھی ہوں، بالفاظ دیگر حتمی اور یقینی طور پر اس کا علم نہ ہو سکے کہ مدعی کون ہے اور مدعا علیہ کون؟ تو ایسی صورت میں دونوں کو قسم دینے کا حق پہنچتا ہے۔
اگر ان میں سے کوئی قسم سے انکاری ہو تو فریق مخالف قسم دے کر مال اپنے قبضہ میں لے لے گا اور اگر دونوں فریق قسم اٹھانے پر آمادہ ہوں تو پھر اس صورت میں قرعہ اندازی کی جائے گی۔
قرعہ جس کے نام نکلے وہ قسم دے کر مال لے جانے کا مستحق قرار پائے گا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1211]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2674
2674. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو قسم اٹھانے کے لیے کہا تو وہ سارے قسم اٹھانے کے لیے فوراً تیار ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ قسم لینے کے لیے ان میں قرعہ اندازی کی جائے، جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم اٹھائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2674]
حدیث حاشیہ:
ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں یوں ہے کہ دو شخصوں نے ایک چیز کا دعویٰ کیا اور کسی کے پاس گواہ نہ تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قرعہ ڈالو اور جس کا نام نکلے وہ قسم کھالے، حاکم کی روایت میں یوں ہے کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کیا اور دنوں نے گواہ پیش کئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھوں آدھ اونٹ دونوں کو دلادیا اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ کا حکم دیا اور جس کا نام قرعہ میں نکلا اس کو دلادیا۔
ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں یوں ہے کہ دو شخصوں نے ایک چیز کا دعویٰ کیا اور کسی کے پاس گواہ نہ تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قرعہ ڈالو اور جس کا نام نکلے وہ قسم کھالے، حاکم کی روایت میں یوں ہے کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کیا اور دنوں نے گواہ پیش کئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھوں آدھ اونٹ دونوں کو دلادیا اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ کا حکم دیا اور جس کا نام قرعہ میں نکلا اس کو دلادیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2674]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2674
2674. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو قسم اٹھانے کے لیے کہا تو وہ سارے قسم اٹھانے کے لیے فوراً تیار ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ قسم لینے کے لیے ان میں قرعہ اندازی کی جائے، جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم اٹھائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2674]
حدیث حاشیہ:
(1)
مذکورہ ضابطہ اس صورت میں ہے کہ جب اسبابِ استحقاق میں سب برابر ہوں، مثلاً:
ایک چیز دو مدعیوں کے قبضے میں ہے اور ہر ایک پوری چیز لینے کا دعوے دار ہے اور قسم اٹھا کر اسے لینے کا خواہش مند ہے۔
گواہ کسی کے پاس نہیں ہیں تو ان کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی جس کے نام قرعہ نکلے گا وہ قسم اٹھا کر اس کا حق دار ہو جائے گا۔
(2)
ابوداود میں ہے کہ دو آدمیوں نے کسی چیز کے متعلق دعویٰ کیا اور کسی کے پاس گواہ نہیں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ اندازی کے ذریعے سے ایک سے قسم لے کر وہ چیز اس کے حوالے کر دی۔
(سنن أبي داود، القضاء، حدیث: 3616)
(1)
مذکورہ ضابطہ اس صورت میں ہے کہ جب اسبابِ استحقاق میں سب برابر ہوں، مثلاً:
ایک چیز دو مدعیوں کے قبضے میں ہے اور ہر ایک پوری چیز لینے کا دعوے دار ہے اور قسم اٹھا کر اسے لینے کا خواہش مند ہے۔
گواہ کسی کے پاس نہیں ہیں تو ان کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی جس کے نام قرعہ نکلے گا وہ قسم اٹھا کر اس کا حق دار ہو جائے گا۔
(2)
ابوداود میں ہے کہ دو آدمیوں نے کسی چیز کے متعلق دعویٰ کیا اور کسی کے پاس گواہ نہیں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ اندازی کے ذریعے سے ایک سے قسم لے کر وہ چیز اس کے حوالے کر دی۔
(سنن أبي داود، القضاء، حدیث: 3616)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2674]