الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مدبر، مکاتب اور ام ولد کا بیان
حدیث نمبر: 1230
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهم عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «المكاتب عبد ما بقي عليه من مكاتبته درهم» أخرجه أبو داود بإسناد حسن وأصله عند أحمد والثلاثة وصححه الحاكم.
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مکاتب اس وقت تک غلام ہی ہے جب تک اس کی مکاتبت سے ایک درہم بھی باقی ہے۔“ اسے ابوداؤد نے حسن سند سے نکالا ہے اور اس کی اصل احمد اور تینوں کے ہاں ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1230]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، العتق، باب في المكاتب يؤدي بعض كتابته فيعجز أو يموت، حديث:3926، وأصله أخرجه أبوداود، العتق، حديث:3927، والترمذي، البيوع، حديث:1260، وابن ماجه، العتق، حديث:2519، وأحمد:2 /178، 184،206، 209، وهو حديث حسن.»
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3927
| عبد كاتب على مائة أوقية فأداها إلا عشرة أواق فهو عبد |
سنن أبي داود |
3926
| المكاتب عبد ما بقي عليه من مكاتبته درهم |
بلوغ المرام |
1230
| المكاتب عبد ما بقي عليه من مكاتبته درهم |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 1230 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1230
تخریج:
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في المكاتب يؤدي بعض كتابته فيعجز أو يموت، حديث:3926، وأصله أخرجه أبوداود، العتق، حديث:3927، والترمذي، البيوع، حديث:1260، وابن ماجه، العتق، حديث:2519، وأحمد:2 /178، 184،206، 209، وهو حديث حسن.» تشریح:
اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ”مکاتب“ جب تک طے شدہ رقم ادا نہ کر سکے اس وقت تک وہ غلام ہی رہے گا اور مالک اس سے خدمت لے سکے گا۔
جمہور علماء کا یہی مذہب ہے۔
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في المكاتب يؤدي بعض كتابته فيعجز أو يموت، حديث:3926، وأصله أخرجه أبوداود، العتق، حديث:3927، والترمذي، البيوع، حديث:1260، وابن ماجه، العتق، حديث:2519، وأحمد:2 /178، 184،206، 209، وهو حديث حسن.»
اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ”مکاتب“ جب تک طے شدہ رقم ادا نہ کر سکے اس وقت تک وہ غلام ہی رہے گا اور مالک اس سے خدمت لے سکے گا۔
جمہور علماء کا یہی مذہب ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1230]