🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اذان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 152
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن بلالا أذن قبل الفجر فأمره النبي صلى الله عليه وآله وسلم أن يرجع فينادي:«‏‏‏‏ألا إن العبد نام» .‏‏‏‏ رواه أبو داود وضعفه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (ایک روز) بلال رضی اللہ عنہ نے طلوع فجر سے پہلے ہی اذان کہہ دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں دوبارہ اذان کہنے کا حکم دیا (تو بلال رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہ کر منادی کی) خبردار! سنو بندہ کو نیند آ گئی تھی۔ ابوداؤد نے اسے روایت کیا اور ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب في الأذان قبل دخول الوقت، حديث:532* حماد بن سلمة أخطأ في رفعه كما اتفق أئمة الحديث كأحمد والبخاري وأبي داود والترمذي وغيرهم، وللحديث شاهد ضعيف عند البهقي:1 /383.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
532
ألا إن العبد قد نام ألا إن العبد قد نام زاد موسى فرجع فنادى ألا إن العبد قد نام
بلوغ المرام
152
ان بلالا اذن قبل الفجر فامره النبي ان يرجع فينادي:«‏‏‏‏الا إن العبد نام
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 152 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 152
لغوی تشریح:
«أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ» طلوع فجر سے قبل اذان کہی، اس گمان کی بنا پر کہ فجر طلوع ہو چکی ہے (حالانکہ طلوع نہیں ہوئی تھی۔) یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ طلوع فجر صادق سے پہلے اذان دینا مشروع نہیں تھا۔

فائدہ:
جب ابتدا میں صرف سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہی اذان کہتے تھے۔ پھر جب ان کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بھی مؤذن مقرر کیا گیا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پہلی اذان، صبح صادق سے پہلے دیتے اور سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ صبح صادق ہونے کے بعد دوسری اذان نماز فجر کے لیے دیتے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔

راویٔ حدیث:
(سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ) ان کا نام عمرو یا عبداللہ بن قیس قرشی عامری ہے جن کا ذکر مفسرین نے سورۂ عبس کی شان نزول میں کیا ہے۔ قدیم الاسلام تھے۔ ہجرت بھی کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عدم موجودگی میں ان کو تیرہ مرتبہ مدینہ میں اپنا نائب (قائم مقام) مقرر فرمایا کہ لوگوں کی امامت کے فرائض انجام دیں۔ آپ کی آنکھوں کی بینائی نہیں تھی۔ جنگ قادسیہ میں جام شہادت نوش فرمایا۔ اس روز جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 152]