🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
شرائط نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 161
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار» .‏‏‏‏ رواه الخمسة إلا النسائي وصححه ابن خزيمة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے حیض آتا ہے (یعنی وہ عورت جو بالغہ ہے) اللہ تعالیٰ اس کی نماز دوپٹہ (اوڑھنی) کے بغیر قبول نہیں کرتا۔
اسے بجز نسائی کے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب المرأة تصلي بغير خمار، حديث:641، والترمذي، الصلاة، وابن ماجه، الطهارة، حديث:655، وأحمد:6 /218، وابن خزيمة:1 /380، حديث:775.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
377
لا تقبل صلاة الحائض إلا بخمار
سنن أبي داود
641
لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار
سنن ابن ماجه
655
لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار
بلوغ المرام
161
لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 161 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 161
لغوی تشریح:
«حَائِضٌ» اس سے بالغ و نوجوان عورت مراد ہے نہ کہ وہ عورت جو حیض کے دن گزار رہی ہو۔
«الْخِمَار» خا کے نیچے کسرہ ہے، اس کپڑے کو کہتے ہیں جس سے عورت اپنا سر اور گردن ڈھانپتی اور چھپاتی ہے۔

فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ نماز کے وقت بالغ و نوجوان عورت کا سارا جسم چھپا ہوا ہونا چاہیے حتی کہ سر کے بال بھی چھپے ہوئے ہوں۔
➋ ایسے کپڑے جن سے عورت کے سر کے بال نظر آتے ہوں، ان میں نماز جائز نہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 161]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 641
عورت سر پر دوپٹہ کے بغیر نماز نہ پڑھے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حسن بصری سے، حسن بصری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 641]
641۔ اردو حاشیہ:
➊ سر کے کپڑے کا وجو ب عورت کے لیے خاص ہے نہ کہ مرد کے لیے۔
➋ ایسے شفاف کپڑے جن سے عورت کے سر کے بال نظر آتے ہوں، ان میں نماز جائز نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 641]

الشيخ حافظ مبشر احمد رباني حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 641
عورت سر پر دوپٹہ کے بغیر نماز نہ پڑھے
«. . . لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ . . .»
. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/ باب الْمَرْأَةِ تُصَلِّي بِغَيْرِ خِمَارٍ/ ح: 641]
فوائد و مسائل
نماز کی کیفیت و ہئیت کے علاوہ چند چیزیں مرد و عورت کی نماز میں مختلف ہیں:
➊ عورتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سر پر اوڑھنی لیں اور اپنے پاؤں بھی ڈھانپیں۔
اس کے بغیر بالغہ عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی، جیسا کہ حدیث نبوی ہے:
«لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ الْحَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ» [ابن ماجه، كتاب الطهارة: باب إذاحاضت الجارة لم تصل إلابخمار 655، أبوداؤد 641، أحمد 150/6]
اللہ تعالیٰ کسی بھی بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کرتا۔
لیکن مردوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر حال میں کپڑا ٹخنوں سے اوپر رکھیں جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے:
«مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ» [بخاري، كتاب اللباس: باب ما أسفل من الكعبين فهو فى النار 5787]
تہ بند کاجو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ آگ میں ہے۔
[احکام و مسائل، حدیث/صفحہ نمبر: 196]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث655
بالغ لڑکی دوپٹہ کے بغیر نماز نہ پڑھے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں فرماتا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 655]
اردو حاشہ:
(1)
عورت کے لیے نماز میں سر چھپانا لازمی ہے خواہ تنہائی میں نماز پڑھ رہی ہو جہاں اس پر کسی کی نظر نہ پڑتی ہو۔
یہ سر چھپانا پردے کے لیے نہیں کیونکہ محرم رشتہ داروں سے سر چھپانا فرض نہیں۔

(2)
عورت کا ذکر کرنے سے معلوم ہو کہ مرد کا یہ حکم نہیں وہ ننگے سر نماز پڑھ سکتا ہے تاہم مرد کے لیے بھی عادتاً ننگے سر رہنا نا پسندیدہ امر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 655]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 377
اوڑھنی کے بغیر عورت کی نماز کے قبول نہ ہونے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کی جاتی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 377]
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے سر کے بال ستر میں داخل ہیں،
اور ستر کو ڈھکے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

2؎:
اس مسئلہ میں اگرچہ علماء کا اختلاف ہے مگر تحقیقی بات یہی ہے کہ عورت کے قدم ستر میں داخل نہیں ہیں،
اس لیے کھلے قدم نماز ہو جائیگی جیسے ہتھیلیوں کے کھلے ہونے کی صورت میں عورت کی نماز جائز ہے،
عورتوں کے پاؤں ڈھکنے کی حدیث جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،
جو موقوفاً و مرفوعاً دونوں حالتوں میں ضعیف ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 377]

حافظ عمران ایوب لاہوری حفظ اللہ، فوائد و مسال، سنن ابی داود641
نماز میں عورت کا لباس کتنا ہونا چاہیے؟
ستر یعنی چہرہ اور ہاتھوں کے علاوہ سارا جسم چھپا ہونا چاہیے۔
➊ آیت «خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ» [الأعراف: 7]
ہر مسجد میں حاضری کے وقت اپنی زینت (یعنی لباس) پہن لو۔ کے عموم میں خواتین بھی شامل ہیں۔
➋ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار» الله تعالى بالغ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں فرماتے۔
[صحيح: صحيح أبو داود 596، كتاب الصلاة: باب المرأة تصلى بغير حمار، أبو داود 641، ترمذي 377، ابن ماجة 655، حاكم 251/1]
جن آثار و روایات میں عورت کے لیے نماز میں تین کپڑوں یا دو کپڑوں کا تعین کر دیا گیا ہے مثلاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمايا: «تصلـى المـرأة فى ثلاثة أثواب: ذرع وخمار وإزار» کہ عورت تین کپڑوں میں نماز پڑھے گی: قمیض، اوڑھنی اور شلوار۔
[صحيح: تمام المنة ص/ 162]
اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے متعلق مروی ہے کہ «أنها كانت تصلي فى الدرع والخمار ليس عليها إزارك» كہ وه قمیض اور اوڑھنی کے ساتھ نماز پڑھ لیتی تھیں، جبکہ تہبند نہیں باندھا ہوتا تھا۔ [مؤطا 160/1، بيهقي 233/2]
ایسی تمام روایات کو استحباب و افضلیت پر محمول کیا جائے گا۔ [تمام المنة ص/ 162]
کیونکہ (اگر ستر ڈھانپا ہوا ہو تو) ایک کپڑے میں بھی نماز درست ہے۔ [نيل الأوطار 549/1]
جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح حدیث اس کی دلیل ہے۔
[أحمد 230/2، بخاري 365، كتاب الصلاة باب الصلاة فى القميص والسراويل والتبان والقباء، مسلم 515، أبو داود 625، نسائي 69/2، ابن ماجة 1047، ابن خزيمة 758]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 349]