علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
شرائط نماز کا بیان
حدیث نمبر: 164
وعن عامر بن ربيعة رضي الله عنه قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم في ليلة مظلمة فأشكلت علينا القبلة فصلينا. فلما طلعت الشمس إذا نحن صلينا إلى غير القبلة فنزلت «فأينما تولوا فثم وجه الله» . أخرجه الترمذي ضعفه.
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک تاریک و اندھیری رات میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، قبلہ کا رخ شناخت کرنا ہم پر دشوار و مشکل ہو گیا۔ ہم نے (اندازاً قبلہ کا رخ متعین کر کے) نماز پڑھ لی۔ جب آفتاب طلوع ہوا تو معلوم ہوا کہ ہم نے غیر قبلہ کی جانب رخ کر کے نماز پڑھی تھی۔ پس پھر یہ آیت نازل ہوئی «فأينما تولوا فثم وجه الله» پس جدھر تم رخ کرو گے اسی طرف اللہ کی ذات موجود ہے۔“ اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، تفسير القرآن، باب ومن سورة البقرة، حديث:2957، وابن ماجه، الصلاة، حديث:1020* عاصم بن عبيدالله ضعيف(تقريب)، وللحديث شاهد ضعيف عند البيهقي:2 /11.»
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2957
| صلى كل رجل منا على حياله فلما أصبحنا ذكرنا ذلك للنبي فنزلت فأينما تولوا فثم وجه الله |
جامع الترمذي |
345
| صلى كل رجل منا على حياله فلما أصبحنا ذكرنا ذلك للنبي فنزل فأينما تولوا فثم وجه الله |
سنن ابن ماجه |
1020
| صلينا لغير القبلة فذكرنا ذلك للنبي فأنزل الله فأينما تولوا فثم وجه الله |
بلوغ المرام |
164
| فاينما تولوا فثم وجه الله |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 164 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 164
� لغوی تشریح:
«مُظْلِمَةٍ» ”میم“ پر ضمہ اور ”لام“ مکسور ہے۔ تاریک رات۔
«فَأَشْكَلْتُ» مشتبہ ہو گئی۔
«تُوَلُّوْا» رخ کرو گے۔
«فَثَمَّ» ”ثا“ پر فتحہ اور ”میم“ پر تشدید اور فتحہ ہے۔ اس کے معنی ہیں: وہاں۔
فوائد و مسائل:
➊ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [إرواء الغليل، رقم: 291] بنابریں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عدم واقفیت، ابر آلودگی یا دیگر کسی سبب کے باعث سمت قبلہ صحیح طور پر معلوم نہ ہو سکے اور آدمی اپنی دانست کے مطابق غور و فکر اور سوچ بچار کے بعد فیصلہ کر کے نماز پڑھ لے تو اس اندازے میں اگر غلطی ہو جائے تو معاف ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا» [البقرة 2: 286] ”اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کام کرنے کا مکلّف نہیں ٹھہراتا۔“
➋ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وقت نکلنے سے پہلے اور بعد میں ہر صورت میں اعادہ واجب ہے کیونکہ قبلہ رخ ہونا فرض ہے، نیز وہ اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں۔
➌ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اس بنا پر ضعیف کہا ہے کہ اس روایت کی سند میں اشعث بن سعید راوی ضعیف قرار دیا گیا ہے، مگر امام ترمذی رحمہ اللہ اس مسئلے کی بابت كتاب الصلاة، باب ماجاء فى الرجل يصلي۔۔۔، حديث: 345 ميں لکھتے ہیں: ”اکثر علماء نے یہی موقف اختیار کیا ہے کہ اگر کوئی شخص بادل کی وجہ سے قبلے کے سوا دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے، پھر نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ اس نے قبلہ رخ نماز ادا نہیں کی تو اس کی وہ نماز درست ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے۔“
➍ اگر نماز کے دوران میں پتہ چل جائے تو نمازی کو چاہیے کہ دوران نماز ہی میں قبلہ رخ ہو جائے جیسا کہ اہل قبا نے تحویل قبلہ کی خبر سن کر نماز ہی میں اپنا رخ تبدیل کر لیا تھا، اور باقی نماز صحیح سمت ہو کر مکمل کر لے۔
راویٔ حدیث:
(سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ) قبیلہ عنز بن وائل میں سے ہیں۔ بکر اور تغلب جو وائل کے بیٹے تھے، عنز ان کا بھائی تھا۔ قدیم الاسلام صحابی ہیں۔ ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ دونوں سے شرف یاب ہوئے۔ غزوہ بدر اور دیگر تمام معرکوں میں داد شجاعت دیتے رہے۔ ان کے سن وفات میں اختلاف ہے۔ 32، 33 یا 35 ہجری میں سے کسی سن میں وفات پائی۔
«مُظْلِمَةٍ» ”میم“ پر ضمہ اور ”لام“ مکسور ہے۔ تاریک رات۔
«فَأَشْكَلْتُ» مشتبہ ہو گئی۔
«تُوَلُّوْا» رخ کرو گے۔
«فَثَمَّ» ”ثا“ پر فتحہ اور ”میم“ پر تشدید اور فتحہ ہے۔ اس کے معنی ہیں: وہاں۔
فوائد و مسائل:
➊ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [إرواء الغليل، رقم: 291] بنابریں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عدم واقفیت، ابر آلودگی یا دیگر کسی سبب کے باعث سمت قبلہ صحیح طور پر معلوم نہ ہو سکے اور آدمی اپنی دانست کے مطابق غور و فکر اور سوچ بچار کے بعد فیصلہ کر کے نماز پڑھ لے تو اس اندازے میں اگر غلطی ہو جائے تو معاف ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا» [البقرة 2: 286] ”اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کام کرنے کا مکلّف نہیں ٹھہراتا۔“
➋ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وقت نکلنے سے پہلے اور بعد میں ہر صورت میں اعادہ واجب ہے کیونکہ قبلہ رخ ہونا فرض ہے، نیز وہ اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں۔
➌ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اس بنا پر ضعیف کہا ہے کہ اس روایت کی سند میں اشعث بن سعید راوی ضعیف قرار دیا گیا ہے، مگر امام ترمذی رحمہ اللہ اس مسئلے کی بابت كتاب الصلاة، باب ماجاء فى الرجل يصلي۔۔۔، حديث: 345 ميں لکھتے ہیں: ”اکثر علماء نے یہی موقف اختیار کیا ہے کہ اگر کوئی شخص بادل کی وجہ سے قبلے کے سوا دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے، پھر نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ اس نے قبلہ رخ نماز ادا نہیں کی تو اس کی وہ نماز درست ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے۔“
➍ اگر نماز کے دوران میں پتہ چل جائے تو نمازی کو چاہیے کہ دوران نماز ہی میں قبلہ رخ ہو جائے جیسا کہ اہل قبا نے تحویل قبلہ کی خبر سن کر نماز ہی میں اپنا رخ تبدیل کر لیا تھا، اور باقی نماز صحیح سمت ہو کر مکمل کر لے۔
راویٔ حدیث:
(سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ) قبیلہ عنز بن وائل میں سے ہیں۔ بکر اور تغلب جو وائل کے بیٹے تھے، عنز ان کا بھائی تھا۔ قدیم الاسلام صحابی ہیں۔ ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ دونوں سے شرف یاب ہوئے۔ غزوہ بدر اور دیگر تمام معرکوں میں داد شجاعت دیتے رہے۔ ان کے سن وفات میں اختلاف ہے۔ 32، 33 یا 35 ہجری میں سے کسی سن میں وفات پائی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 164]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1020
لاعلمی میں قبلہ سے ہٹ کر کے نماز پڑھنے والے کے حکم کا بیان۔
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آسمان پر بادل چھا گئے اور قبلہ کی سمت ہم پر مشتبہ ہو گئی، آخر ہم نے (اپنے ظن غالب کی بنیاد پر) نماز پڑھ لی، اور اس سمت ایک نشان رکھ دیا، جب سورج نکلا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کی سمت نماز نہیں پڑھی ہے، ہم نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اللہ تعالیٰ نے «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”جدھر تم رخ کر لو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے“ (سورۃ البقرہ: ۱۱۵) نازل فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1020]
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آسمان پر بادل چھا گئے اور قبلہ کی سمت ہم پر مشتبہ ہو گئی، آخر ہم نے (اپنے ظن غالب کی بنیاد پر) نماز پڑھ لی، اور اس سمت ایک نشان رکھ دیا، جب سورج نکلا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کی سمت نماز نہیں پڑھی ہے، ہم نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اللہ تعالیٰ نے «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”جدھر تم رخ کر لو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے“ (سورۃ البقرہ: ۱۱۵) نازل فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1020]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر بادل وغیرہ کی وجہ سے قبلے کا رخ معلوم نہ ہوسکے تو اندازے سے رخ متعین کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس اندازے میں اگر غلطی ہوجائے تو معاف ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقرۃ: 286)
”اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کام کرنے کا مکلف نہیں فرماتا“ (2)
اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ غلطی سے قبلے کے سوا د وسری طرف پڑھی ہوئی نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔
اکثر علماء نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔
وہ فرماتے ہیں۔
اگر کوئی شخص بادل کی وجہ سے قبلے کے سوا دوسری طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے پھر نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ اس نے قبلہ رخ نماز ادا نہیں کی تو اس کی وہ نماز درست ہے۔
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ، ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ، احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہی موقف ہے۔ (جامع ترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء فی الرجل یصلی لغیر القبلة فی الغیم، حدیث: 345)
(3)
اگر نماز کے دوران میں پتہ چل جائے تو نمازی کوچاہیے کہ نماز کے دوران میں ہی قبلہ رخ ہوجائے۔
اور باقی نماز صحیح رخ پر مکمل کرلے۔
جیسے کہ اہل قباء نے تحویل قبلہ کی خبر سن کرنماز کے دوران میں ہی رخ تبدیل کرلیا تھا۔
(4)
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک حسن ہے دیکھئے: (الارواء، رقم: 291)
فوائد و مسائل:
(1)
اگر بادل وغیرہ کی وجہ سے قبلے کا رخ معلوم نہ ہوسکے تو اندازے سے رخ متعین کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس اندازے میں اگر غلطی ہوجائے تو معاف ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقرۃ: 286)
”اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کام کرنے کا مکلف نہیں فرماتا“ (2)
اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ غلطی سے قبلے کے سوا د وسری طرف پڑھی ہوئی نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔
اکثر علماء نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔
وہ فرماتے ہیں۔
اگر کوئی شخص بادل کی وجہ سے قبلے کے سوا دوسری طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے پھر نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ اس نے قبلہ رخ نماز ادا نہیں کی تو اس کی وہ نماز درست ہے۔
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ، ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ، احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہی موقف ہے۔ (جامع ترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء فی الرجل یصلی لغیر القبلة فی الغیم، حدیث: 345)
(3)
اگر نماز کے دوران میں پتہ چل جائے تو نمازی کوچاہیے کہ نماز کے دوران میں ہی قبلہ رخ ہوجائے۔
اور باقی نماز صحیح رخ پر مکمل کرلے۔
جیسے کہ اہل قباء نے تحویل قبلہ کی خبر سن کرنماز کے دوران میں ہی رخ تبدیل کرلیا تھا۔
(4)
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک حسن ہے دیکھئے: (الارواء، رقم: 291)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1020]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 345
جو شخص بدلی میں غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے اس کا کیا حکم ہے؟
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ تو ہم نہیں جان سکے کہ قبلہ کس طرف ہے، ہم میں سے ہر شخص نے اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی جس طرف پہلے سے اس کا رخ تھا۔ جب ہم نے صبح کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا چنانچہ اس وقت آیت کریمہ «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”تم جس طرف رخ کر لو اللہ کا منہ اسی طرف ہے“ نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 345]
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ تو ہم نہیں جان سکے کہ قبلہ کس طرف ہے، ہم میں سے ہر شخص نے اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی جس طرف پہلے سے اس کا رخ تھا۔ جب ہم نے صبح کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا چنانچہ اس وقت آیت کریمہ «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”تم جس طرف رخ کر لو اللہ کا منہ اسی طرف ہے“ نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 345]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں اشعث بن سعید السمان متکلم فیہ راوی ہیں،
حتی کہ بعض علماء نے بڑی شدید جرح کی ہے،
اور انہیں غیر ثقہ اور منکر الحدیث بلکہ متروک الحدیث قرار دیا ہے،
لیکن امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ نہ تو متروک ہے اور نہ محدثین کے یہاں حافظ حدیث ہے،
ابو احمد الحاکم کہتے ہیں:
”لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَهُمْ“ (یعنی محدثین کے یہاں اشعث زیادہ قوی راوی نہیں ہے)
ابن عدی کہتے ہیں:
اس کی احادیث میں سے بعض غیر محفوظ ہیں،
اور ضعف کے باوجود ان کی حدیثیں لکھی جائیں گی (تہذیب الکمال 523) خلاصہ یہ کہ ان کی احادیث کو شواہد و متابعات کے باب میں جانچا اور پرکھا جائے گا اسی کو اعتبار کہتے ہیں،
اور ترمذی نے سند پر کلام کر کے اشعث کے بارے لکھا ہے کہ حدیث میں ان کی تضعیف کی گئی ہے،
اور اکثر علماء کا فتویٰ بھی اسی حدیث کے مطابق ہے،
اس شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)
نوٹ:
(سند میں اشعث بن سعید السمان متکلم فیہ راوی ہیں،
حتی کہ بعض علماء نے بڑی شدید جرح کی ہے،
اور انہیں غیر ثقہ اور منکر الحدیث بلکہ متروک الحدیث قرار دیا ہے،
لیکن امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ نہ تو متروک ہے اور نہ محدثین کے یہاں حافظ حدیث ہے،
ابو احمد الحاکم کہتے ہیں:
”لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَهُمْ“ (یعنی محدثین کے یہاں اشعث زیادہ قوی راوی نہیں ہے)
ابن عدی کہتے ہیں:
اس کی احادیث میں سے بعض غیر محفوظ ہیں،
اور ضعف کے باوجود ان کی حدیثیں لکھی جائیں گی (تہذیب الکمال 523) خلاصہ یہ کہ ان کی احادیث کو شواہد و متابعات کے باب میں جانچا اور پرکھا جائے گا اسی کو اعتبار کہتے ہیں،
اور ترمذی نے سند پر کلام کر کے اشعث کے بارے لکھا ہے کہ حدیث میں ان کی تضعیف کی گئی ہے،
اور اکثر علماء کا فتویٰ بھی اسی حدیث کے مطابق ہے،
اس شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 345]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2957
سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک انتہائی اندھیری رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، کوئی نہ جان سکا کہ قبلہ کدھر ہے۔ چنانچہ جو جس رخ پر تھا اس نے اسی رخ پر نماز پڑھ لی، جب صبح ہوئی تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو (اس وقت) یہ آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”تم جدھر بھی منہ کروا ادھر اللہ کا منہ ہے“ (البقرہ: ۱۱۵) نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2957]
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک انتہائی اندھیری رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، کوئی نہ جان سکا کہ قبلہ کدھر ہے۔ چنانچہ جو جس رخ پر تھا اس نے اسی رخ پر نماز پڑھ لی، جب صبح ہوئی تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو (اس وقت) یہ آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”تم جدھر بھی منہ کروا ادھر اللہ کا منہ ہے“ (البقرہ: ۱۱۵) نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2957]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تم جدھر بھی منہ کروا ادھر اللہ کا منہ ہے (البقرۃ: 115) لیکن بہرحال یہ اضطراری حالت کے لیے ہے،
عام حالات اور معلوم ہو جانے کی صورت میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نماز کی شرط ہے۔
وضاحت:
1؎:
تم جدھر بھی منہ کروا ادھر اللہ کا منہ ہے (البقرۃ: 115) لیکن بہرحال یہ اضطراری حالت کے لیے ہے،
عام حالات اور معلوم ہو جانے کی صورت میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نماز کی شرط ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2957]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، سنن ترمذی 345
اور اگر قبلہ نہ دیکھ رہا ہو
«وَغَيْرُ الْمَشَاهِدِ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ بَعْدَ التَّحرى»
اور اگر قبلہ نہ دیکھ رہا ہو تو کوشش و تحقیق کے بعد اس کی جہت کی طرف رخ کر لے۔
➊ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
«لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا» [البقرة: 286]
”اللہ تعالی کسی نفس کو بھی اس کی وسعت و طاقت سے زیادہ تکلیف میں نہیں ڈالتے۔“
➋ عبد اللہ بن عامر بن ربیعہؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک اندھیری رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ ہمیں قبلے کا علم نہیں ہوا «فصلي كل رجل منا على حياله» ”لہذا ہم میں سے ہر آدمی نے اپنی جہت میں نماز پڑھ لی۔“ جب صبح ہوئی تو ہم نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَقَمْ وَجْهُ اللهِ» [البقرة: 115] ”تم جس طرف بھی پھرو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔“
[حسن: صحيح ترمذي 284، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى الرجل يصلى لغير القبلة فى الغيم، ترمذى 345، دار قطني 272/1، بيهقي 11/2]
(ابن بازؒ) جب مومن کسی صحرا میں یا ایسی بستی میں ہو جہاں قبلے کا رخ مشتبہ ہو رہا ہو تو پھر وہ شخص صحیح رخ معلوم کرنے کے لیے مکمل کوشش کرنے کے بعد اپنے اجتہاد کے مطابق نماز ادا کر لے تو اس کی نماز درست ہے۔ [فتاوي ابن باز مترجم 56/1]
فقہاء نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اجتہاد کے ساتھ کسی سمت میں نماز پڑھ لیتا ہے پھر اسے علم ہوتا ہے کہ اس نے قبلہ رخ نماز نہیں پڑھی تو کیا اسے دوبارہ نماز ادا کرنی پڑے گی یا کہ پہلی نماز کفایت کر جائے گی؟
(احناف، حنابلہ) اجتہاد کی صورت میں دوبارہ نماز پڑھنا واجب نہیں۔
(مالکیہ) اس نماز کے وقت میں نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔
(شافعیہ) اگر اس نماز کا وقت گزر بھی گیا ہو تب بھی اسے دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ [الفقه الإسلامي وأدلته 761/1، سبل السلام 307/1]
(راجح) اس نماز کا وقت ہو یا گزر چکا ہو کسی صورت میں بھی نماز دوبارہ ادا کرنا واجب نہیں جیسا کہ گذشتہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ نیز امام شوکانیؒ اور عبدالرحمن مبارکپوریؒ بھی اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ [نيل الأوطار 677/1، السيل الجرار 173/1، تحفة الأحوذى 335/1]
(ابن قدامہ حنبلیؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [المغني 111/2]
«وَغَيْرُ الْمَشَاهِدِ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ بَعْدَ التَّحرى»
اور اگر قبلہ نہ دیکھ رہا ہو تو کوشش و تحقیق کے بعد اس کی جہت کی طرف رخ کر لے۔
➊ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
«لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا» [البقرة: 286]
”اللہ تعالی کسی نفس کو بھی اس کی وسعت و طاقت سے زیادہ تکلیف میں نہیں ڈالتے۔“
➋ عبد اللہ بن عامر بن ربیعہؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک اندھیری رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ ہمیں قبلے کا علم نہیں ہوا «فصلي كل رجل منا على حياله» ”لہذا ہم میں سے ہر آدمی نے اپنی جہت میں نماز پڑھ لی۔“ جب صبح ہوئی تو ہم نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَقَمْ وَجْهُ اللهِ» [البقرة: 115] ”تم جس طرف بھی پھرو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔“
[حسن: صحيح ترمذي 284، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى الرجل يصلى لغير القبلة فى الغيم، ترمذى 345، دار قطني 272/1، بيهقي 11/2]
(ابن بازؒ) جب مومن کسی صحرا میں یا ایسی بستی میں ہو جہاں قبلے کا رخ مشتبہ ہو رہا ہو تو پھر وہ شخص صحیح رخ معلوم کرنے کے لیے مکمل کوشش کرنے کے بعد اپنے اجتہاد کے مطابق نماز ادا کر لے تو اس کی نماز درست ہے۔ [فتاوي ابن باز مترجم 56/1]
فقہاء نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اجتہاد کے ساتھ کسی سمت میں نماز پڑھ لیتا ہے پھر اسے علم ہوتا ہے کہ اس نے قبلہ رخ نماز نہیں پڑھی تو کیا اسے دوبارہ نماز ادا کرنی پڑے گی یا کہ پہلی نماز کفایت کر جائے گی؟
(احناف، حنابلہ) اجتہاد کی صورت میں دوبارہ نماز پڑھنا واجب نہیں۔
(مالکیہ) اس نماز کے وقت میں نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔
(شافعیہ) اگر اس نماز کا وقت گزر بھی گیا ہو تب بھی اسے دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ [الفقه الإسلامي وأدلته 761/1، سبل السلام 307/1]
(راجح) اس نماز کا وقت ہو یا گزر چکا ہو کسی صورت میں بھی نماز دوبارہ ادا کرنا واجب نہیں جیسا کہ گذشتہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ نیز امام شوکانیؒ اور عبدالرحمن مبارکپوریؒ بھی اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ [نيل الأوطار 677/1، السيل الجرار 173/1، تحفة الأحوذى 335/1]
(ابن قدامہ حنبلیؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [المغني 111/2]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 355]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، سنن ترمذی 345
جب نمازی قبلہ سے دور دراز فاصلہ پر ہو
جب نمازی قبلہ سے دور دراز فاصلہ پر ہو تو اس کے لیے عین قبلہ کی جانب رخ کرنا لازمی نہیں بلکہ محض اپنا چہرہ اس سمت میں کر لینا ہی کافی ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ما بين المشرق والمغرب قبلة» ”مشرق اور مغرب کے مابین قبلہ ہے۔“
[صحيح: إرواء الغليل 324/1، ترمذى 344، 342، كتاب الصلاة: باب ما جاء أن ما بين المشرق والمغرب قبلة، ابن ماجة 1011، نسائي 172/4، بيهقي 9/2، دار قطني 27031]
شیخ حازم على قاضی نے اس حدیث کو صحیح لغیرہ کہا ہے۔ [التعليق على سبل السلام 307/1]
امام صنعانیؒ رقمطراز ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص کے لیے کہ جس پر عین قبلہ معلوم کرنا دشوار ہو محض اس سمت میں چہرہ کر لینا ہی کافی ہے نہ کہ اس پر عین قبلہ کی جانب رخ کرنا ضروری ہے۔ علماء کی ایک جماعت کا اس حدیث کی وجہ سے یہی موقف ہے۔ [سبل السلام 308/1]
گذشتہ حدیث سے وجہ استدلال یوں ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان تمام جگہ میں تو قبلہ نہیں ہے بلکہ بعض جگہ میں قبلہ ہے اور بعض اس کا اردگرد ہے لیکن سب کو ہی قبلہ کہا گیا ہے لہذا اس جہت وسمت میں رخ کرنا ہی کافی ہوگا۔
(شوکانیؒ) یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص کعبے سے دور ہو اس پر اس جہت میں اپنا رخ کر لینا ہی فرض ہے نہ کہ اس پر عین قبلہ رخ کرنا ضروری ہے۔ [نيل الأوطار 682/1]
(احمدؒ، مالکؒ، ابوحنیفہؒ) اس کے قائل ہیں۔ ایک قول کے مطابق امام شافعیؒ کا بھی یہی موقف ہے۔
(شافعیؒ) جو شخص دور ہے اس پر بھی عین قبلہ کی جانب رخ کرنا فرض ہے۔
[الأم 190/1، روضة الطالبين 329/1، شرح فتح القدير 234/1، كشاف القناع 305/1]
(راجح) پہلا موقف ہی راجح و برحق ہے۔ [المغني لابن قدامة 102/2]
آج کل قبلہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کیونکہ ہر شہر اور بستی میں مساجد کے محراب اہل خبر و اہل معرفت افراد نے تحقیق و تفتیش کے بعد قبلہ کی جانب ہی بنائے ہوئے ہیں لہذا انہی کے مطابق قبلہ رخ ہو جانا چاہیے۔
------------------
اگر کوئی ایسے بلند و بالا پہاڑ پر نماز پڑھے
اگر کوئی ایسے بلند و بالا پہاڑ پر نماز پڑھے کہ کعبہ کی سمت سے (اوپر) نکل جائے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اسی طرح اگر کوئی ایسی جگہ میں نماز پڑھے جو اس کی سمت سے نیچے ہو (تو بھی اس کی نماز صحیح ہے)۔ [المغني 102/2]
------------------
ہوائی جہاز اور کشتی میں قبلہ رخ ہونا اور بیٹھ کر نماز پڑھنا
(ابن بازؒ) مسلمان پر واجب ہے کہ جب وہ ہوائی جہاز یا صحرا میں ہو تو علامات قبلہ اہل خبر و نظر سے دریافت کر کے قبلہ پہچاننے میں اجتھاد کرے... پھر اگر اسے اس کا علم نہ ہو سکے تو قبلہ کے رخ کی جستجو میں اجتھاد کرے اور اس طرف چہرہ کر کے نماز ادا کرے، یہ اس کے لیے کافی ہے خواہ بعد میں یہ معلوم ہو کہ اس نے قبلہ کی تلاش میں خطا کی ہے۔۔۔۔۔، (بیٹھ کر نماز پڑھنے میں) کوئی حرج نہیں جبکہ وہ کھڑا ہو کر نماز نہ ادا کر سکتا ہو جیسے کشتی یا بحری جہاز میں نماز ادا کرنے والا اگر کھڑا ہو کر نماز پڑھنے سے عاجز ہو تو بیٹھ کر ادا کر سکتا ہے اور اس مسئلے میں حجت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے «فَاتَّقُوا اللهَ مَاسْتَطَعْتُمْ» [التغابن: 16] ”جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو۔“ اور ہوائی جہاز سے اترنے تک نماز کو اس صورت میں موخر کر سکتا ہے جبکہ نماز کے وقت میں گنجائش ہو۔ یاد رہے کہ یہ تمام مسائل فرضی نمازوں کے متعلق ہیں علاوہ ازیں نوافل میں قبلہ رخ ہونا واجب نہیں۔ [الفتاوى الإسلامية 253/1، فتاوى ابن باز مترجم 57/1]
جب نمازی قبلہ سے دور دراز فاصلہ پر ہو تو اس کے لیے عین قبلہ کی جانب رخ کرنا لازمی نہیں بلکہ محض اپنا چہرہ اس سمت میں کر لینا ہی کافی ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ما بين المشرق والمغرب قبلة» ”مشرق اور مغرب کے مابین قبلہ ہے۔“
[صحيح: إرواء الغليل 324/1، ترمذى 344، 342، كتاب الصلاة: باب ما جاء أن ما بين المشرق والمغرب قبلة، ابن ماجة 1011، نسائي 172/4، بيهقي 9/2، دار قطني 27031]
شیخ حازم على قاضی نے اس حدیث کو صحیح لغیرہ کہا ہے۔ [التعليق على سبل السلام 307/1]
امام صنعانیؒ رقمطراز ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص کے لیے کہ جس پر عین قبلہ معلوم کرنا دشوار ہو محض اس سمت میں چہرہ کر لینا ہی کافی ہے نہ کہ اس پر عین قبلہ کی جانب رخ کرنا ضروری ہے۔ علماء کی ایک جماعت کا اس حدیث کی وجہ سے یہی موقف ہے۔ [سبل السلام 308/1]
گذشتہ حدیث سے وجہ استدلال یوں ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان تمام جگہ میں تو قبلہ نہیں ہے بلکہ بعض جگہ میں قبلہ ہے اور بعض اس کا اردگرد ہے لیکن سب کو ہی قبلہ کہا گیا ہے لہذا اس جہت وسمت میں رخ کرنا ہی کافی ہوگا۔
(شوکانیؒ) یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص کعبے سے دور ہو اس پر اس جہت میں اپنا رخ کر لینا ہی فرض ہے نہ کہ اس پر عین قبلہ رخ کرنا ضروری ہے۔ [نيل الأوطار 682/1]
(احمدؒ، مالکؒ، ابوحنیفہؒ) اس کے قائل ہیں۔ ایک قول کے مطابق امام شافعیؒ کا بھی یہی موقف ہے۔
(شافعیؒ) جو شخص دور ہے اس پر بھی عین قبلہ کی جانب رخ کرنا فرض ہے۔
[الأم 190/1، روضة الطالبين 329/1، شرح فتح القدير 234/1، كشاف القناع 305/1]
(راجح) پہلا موقف ہی راجح و برحق ہے۔ [المغني لابن قدامة 102/2]
آج کل قبلہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کیونکہ ہر شہر اور بستی میں مساجد کے محراب اہل خبر و اہل معرفت افراد نے تحقیق و تفتیش کے بعد قبلہ کی جانب ہی بنائے ہوئے ہیں لہذا انہی کے مطابق قبلہ رخ ہو جانا چاہیے۔
------------------
اگر کوئی ایسے بلند و بالا پہاڑ پر نماز پڑھے
اگر کوئی ایسے بلند و بالا پہاڑ پر نماز پڑھے کہ کعبہ کی سمت سے (اوپر) نکل جائے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اسی طرح اگر کوئی ایسی جگہ میں نماز پڑھے جو اس کی سمت سے نیچے ہو (تو بھی اس کی نماز صحیح ہے)۔ [المغني 102/2]
------------------
ہوائی جہاز اور کشتی میں قبلہ رخ ہونا اور بیٹھ کر نماز پڑھنا
(ابن بازؒ) مسلمان پر واجب ہے کہ جب وہ ہوائی جہاز یا صحرا میں ہو تو علامات قبلہ اہل خبر و نظر سے دریافت کر کے قبلہ پہچاننے میں اجتھاد کرے... پھر اگر اسے اس کا علم نہ ہو سکے تو قبلہ کے رخ کی جستجو میں اجتھاد کرے اور اس طرف چہرہ کر کے نماز ادا کرے، یہ اس کے لیے کافی ہے خواہ بعد میں یہ معلوم ہو کہ اس نے قبلہ کی تلاش میں خطا کی ہے۔۔۔۔۔، (بیٹھ کر نماز پڑھنے میں) کوئی حرج نہیں جبکہ وہ کھڑا ہو کر نماز نہ ادا کر سکتا ہو جیسے کشتی یا بحری جہاز میں نماز ادا کرنے والا اگر کھڑا ہو کر نماز پڑھنے سے عاجز ہو تو بیٹھ کر ادا کر سکتا ہے اور اس مسئلے میں حجت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے «فَاتَّقُوا اللهَ مَاسْتَطَعْتُمْ» [التغابن: 16] ”جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو۔“ اور ہوائی جہاز سے اترنے تک نماز کو اس صورت میں موخر کر سکتا ہے جبکہ نماز کے وقت میں گنجائش ہو۔ یاد رہے کہ یہ تمام مسائل فرضی نمازوں کے متعلق ہیں علاوہ ازیں نوافل میں قبلہ رخ ہونا واجب نہیں۔ [الفتاوى الإسلامية 253/1، فتاوى ابن باز مترجم 57/1]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 358]
Bulughul Maram Hadith 164 in Urdu