بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سجود سہو وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 279
وعن البراء بن عازب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعث عليا إلى اليمن فذكر الحديث قال: فكتب علي بإسلامهم فلما قرأ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الكتاب خر ساجدا شكرا لله تعالى على ذلك. رواه البيهقي. وأصله في البخاري.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔ راوی نے حدیث بیان کی جس میں اس نے کہا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل یمن کے اسلام میں داخل ہونے کی روداد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ارسال فرمائی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مکتوب پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کیلئے سجدہ ریز ہو گئے۔
بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں موجود ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 279]
بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں موجود ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 279]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي: 2 /369، وأخرج البخاري صدر الحديث، المغازي، حديث:4349.»
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4349
| مر أصحاب خالد من شاء منهم أن يعقب معك فليعقب ومن شاء فليقبل |
بلوغ المرام |
279
| فكتب علي بإسلامهم فلما قرا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الكتاب خر ساجدا شكرا لله تعالى على ذلك |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 279 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 279
تخریج:
«أخرجه البيهقي: 2 /369، وأخرج البخاري صدر الحديث، المغازي، حديث:4349.» تشریح:
1. آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مکتوب میں اہل یمن کے اسلام قبول کرنے کی خبر پڑھ کر سجدۂ شکر ادا کیا۔
مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ باعث خوشی اور مقام مسرت ہے اور یہ بھی ایک عظیم نعمت الٰہی ہے‘ اس لیے بطور شکرکے سجدۂ شکر بجا لانا مشروع ہے۔
2. ایک وہ وقت تھا جب مسلمانوں کی کثرت تعداد باعث مسرت اور موجب انبساط ہوا کرتی تھی اور اب یہ دور ہے کہ مسلمان بچوں کی پیدائش روکنے کی شب و روز سکیمیں اور عملی تدبیریں بروئے کار لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں‘ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومتی سطح پر زور و شور سے اس مہم کو چلایا جا رہا ہے اور کروڑہا روپیہ اسے کامیاب بنانے پر صرف کیا جا رہا ہے۔
«أخرجه البيهقي: 2 /369، وأخرج البخاري صدر الحديث، المغازي، حديث:4349.»
1. آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مکتوب میں اہل یمن کے اسلام قبول کرنے کی خبر پڑھ کر سجدۂ شکر ادا کیا۔
مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ باعث خوشی اور مقام مسرت ہے اور یہ بھی ایک عظیم نعمت الٰہی ہے‘ اس لیے بطور شکرکے سجدۂ شکر بجا لانا مشروع ہے۔
2. ایک وہ وقت تھا جب مسلمانوں کی کثرت تعداد باعث مسرت اور موجب انبساط ہوا کرتی تھی اور اب یہ دور ہے کہ مسلمان بچوں کی پیدائش روکنے کی شب و روز سکیمیں اور عملی تدبیریں بروئے کار لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں‘ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومتی سطح پر زور و شور سے اس مہم کو چلایا جا رہا ہے اور کروڑہا روپیہ اسے کامیاب بنانے پر صرف کیا جا رہا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 279]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4349
4349. حضرت براء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حضرت خالد بن ولید ؓ کے ہمراہ یمن کی طرف روانہ کیا۔ پھر حضرت خالد ؓ کی جگہ سیدنا علی ؓ کو تعینات فرمایا، نیز حکم دیا: ”خالد ؓ کے ساتھیوں سے کہہ دو کہ ان میں سے جو تمہارے ساتھ یمن میں رہنا چاہے وہ تمہارے ساتھ لوٹ جائے اور جو چاہے (مدینہ) واپس چلا جائے۔“ (حضرت براء ؓ کہتے ہیں کہ) میں بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو حضرت علی ؓ کے ساتھ یمن لوٹ گئے تھے اور مجھے کئی اوقیہ چاندی مال غنیمت سے حاصل ہوئی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4349]
حدیث حاشیہ:
اسماعیل کی روایت میں ہے کہ جب ہم حضرت علی ؓ کے ساتھ پھر یمن کو لوٹ گئے تو کافروں کی ایک قوم ہمدان سے مقابلہ ہوا۔
حضرت علی ؓ نے ان کو آنحضرت ا کاخط سنایا۔
وہ سب مسلمان ہوگئے۔
حضرت علی ؓ نے یہ حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا۔
آپ نے سجدئہ شکر ادا کیا اور فرمایا ہمدان سلامت رہے۔
اسماعیل کی روایت میں ہے کہ جب ہم حضرت علی ؓ کے ساتھ پھر یمن کو لوٹ گئے تو کافروں کی ایک قوم ہمدان سے مقابلہ ہوا۔
حضرت علی ؓ نے ان کو آنحضرت ا کاخط سنایا۔
وہ سب مسلمان ہوگئے۔
حضرت علی ؓ نے یہ حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا۔
آپ نے سجدئہ شکر ادا کیا اور فرمایا ہمدان سلامت رہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4349]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4349
4349. حضرت براء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حضرت خالد بن ولید ؓ کے ہمراہ یمن کی طرف روانہ کیا۔ پھر حضرت خالد ؓ کی جگہ سیدنا علی ؓ کو تعینات فرمایا، نیز حکم دیا: ”خالد ؓ کے ساتھیوں سے کہہ دو کہ ان میں سے جو تمہارے ساتھ یمن میں رہنا چاہے وہ تمہارے ساتھ لوٹ جائے اور جو چاہے (مدینہ) واپس چلا جائے۔“ (حضرت براء ؓ کہتے ہیں کہ) میں بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو حضرت علی ؓ کے ساتھ یمن لوٹ گئے تھے اور مجھے کئی اوقیہ چاندی مال غنیمت سے حاصل ہوئی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4349]
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ جب ہم لوٹ کر حضرت علی ؓ کے ہمراہ یمن گئے تو قوم ہمدان سے ہمارا مقابلہ ہوا۔
حضرت علی ؓ نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کرسنایا تو وہ سب مسلمان ہوگئے۔
حضرت علی ؓ نے اس واقعے کی اطلاع جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ نے سجدہ شکرادا کیا اورفرمایا:
"ہمدان سلامت رہے۔
"(السنن الکبری للبیهقي: 369/2 و فتح الباري: 83/8)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی ؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یمن بھیجنے کا ارادہ کیاتو انھوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے ایسی قوم کی طرف بھیج رہ ہیں جن کے افراد عمر رسیدہ ہیں جبکہ میں ابھی نوعمر ہوں، فیصلہ کرنے کی پوری صلاحیت نہیں رکھتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کردعا فرمائی:
"اے اللہ! اس کی زبان کو ثابت رکھ، اس کے دل کی رہنمائی فرما۔
" نیز آپ نے فرمایا:
"جب تیرے پاس کوئی معاملہ آئے تو فریقین کے بیان سن کر پھر فیصلہ کرنا۔
"(مسند أحمد: 111/1)
ایک روایت میں ہے کہ جب ہم لوٹ کر حضرت علی ؓ کے ہمراہ یمن گئے تو قوم ہمدان سے ہمارا مقابلہ ہوا۔
حضرت علی ؓ نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کرسنایا تو وہ سب مسلمان ہوگئے۔
حضرت علی ؓ نے اس واقعے کی اطلاع جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ نے سجدہ شکرادا کیا اورفرمایا:
"ہمدان سلامت رہے۔
"(السنن الکبری للبیهقي: 369/2 و فتح الباري: 83/8)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی ؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یمن بھیجنے کا ارادہ کیاتو انھوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے ایسی قوم کی طرف بھیج رہ ہیں جن کے افراد عمر رسیدہ ہیں جبکہ میں ابھی نوعمر ہوں، فیصلہ کرنے کی پوری صلاحیت نہیں رکھتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کردعا فرمائی:
"اے اللہ! اس کی زبان کو ثابت رکھ، اس کے دل کی رہنمائی فرما۔
" نیز آپ نے فرمایا:
"جب تیرے پاس کوئی معاملہ آئے تو فریقین کے بیان سن کر پھر فیصلہ کرنا۔
"(مسند أحمد: 111/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4349]
Bulughul Maram Hadith 279 in Urdu