🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب صلاة الجماعة والإمامة
نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 316
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافقین پر سب سے ثقیل و بوجھل نمازیں، نماز عشاء اور نماز فجر ہیں اگر ان کو علم ہو جائے کہ ان دونوں میں حاضر ہونے کا کتنا (عظیم) اجر و ثواب ہے تو یہ لازما ان میں شامل ہوتے خواہ ان کو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑتا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 316]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَثْقَلُ» سب سے بھاری – «الصَّلَاةِ» نماز – «عَلَى الْمُنَافِقِينَ» منافقوں پر – «صَلَاةُ الْعِشَاءِ» عشاء کی نماز – «وَصَلَاةُ الْفَجْرِ» اور فجر کی نماز ہے – «وَلَوْ يَعْلَمُونَ» اور اگر وہ جان لیں – «مَا فِيهِمَا» جو ان دونوں میں (ثواب) ہے – «لَأَتَوْهُمَا» تو ضرور ان میں آئیں – «وَلَوْ» اگرچہ – «حَبْوًا» گھٹنوں کے بل گھسٹ کر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے، اور اگر وہ جان لیں کہ ان دونوں میں کیا (اجر) ہے تو ضرور ان میں آئیں، اگرچہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 316]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب فضل العشاء في الجماعة، حديث:657، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:651.»

الحكم على الحديث: صحيح


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
657
أثقل على المنافقين من الفجر والعشاء ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا هممت أن آمر المؤذن فيقيم ثم آمر رجلا يؤم الناس ثم آخذ شعلا من نار فأحرق على من لا يخرج إلى الصلاة بعد
صحيح مسلم
1482
أثقل صلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا هممت أن آمر بالصلاة فتقام ثم آمر رجلا فيصلي بالناس ثم أنطلق معي برجال معهم حزم من حطب إلى قوم لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم بالنار
سنن ابن ماجه
797
أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا
بلوغ المرام
316
أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 316 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 316
تخریج:
«أخرجه البخاري، الأذان، باب فضل العشاء في الجماعة، حديث:657، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:651.»
تشریح:
ان نمازوں کو نہایت بوجھل اور بھاری کہا گیا ہے۔
عشاء تو اس لیے ثقیل ہے کہ اس وقت تھکے ماندے لوگ سو جانے کی کوشش کرتے ہیں یا اکیلے ہی نماز ادا کر کے سو جاتے ہیں، جماعت کو خاص اہمیت ہی نہیں دیتے اور فجر اس لیے گراں ہوتی ہے کہ شیطان نیند کے مارے ہوئے لوگوں کو اٹھنے ہی نہیں دیتا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 316]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 657
657. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز منافقین پر گراں نہیں ہے۔ اگر وہ جان لیں کہ ان دونوں میں کیا (ثواب) ہے تو ان کے لیے ضرور حاضر ہوں اگرچہ انہیں گھٹنوں اور سرینوں کے بل چل کر آنا پڑے۔ میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ مؤذن کو تکبیر کہنے کا حکم دوں، پھر کسی کو لوگوں کی امامت پر مامور کروں اور خود آگ کے شعلے لے کر ان لوگوں کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:657]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے یہ نکالا کہ عشاءاورفجر کی جماعت دیگرنمازوں کی جماعت سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے اورشریعت میں ان دونمازوں کا بڑا اہتمام ہے۔
جبھی توآپ نے ان لوگوں کے جلانے کا ارادہ کیا جو ان میں شریک نہ ہوں۔
مقصد باب یہی ہے اور باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 657]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث797
عشاء اور فجر باجماعت پڑھنے کی فضیلت۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر وہ ان دونوں نمازوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 797]
اردو حاشہ:
(1)
  نیکی کے کاموں پر جسمانی راحت وآسائش کو ترجیح دینا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
مومن اللہ کی رضا کے لیے نیکی کرتا ہے ثواب کی امید کی وجہ سے مشکل نیکی بھی اس کے لیے آسان ہوتی ہے۔
منافق ایمان سے محروم ہونے کی وجہ سے ثواب آخرت کا طلب گار نہیں ہوتا اسے مجبوراً نماز پڑھنی پڑتی ہے تاکہ اسے مسلمان سمجھا جائے لہٰذا نیکی کا کام اسے ایک بیگار کی طرح دشوار محسوس ہوتا ہے۔
عشاء اور فجر کی نمازوں میں چونکہ جسمانی طور پر مشقت ہے اور ان کے لیے نفس سے جہاد کرنا پڑتا ہے اس لیے منافق ان کو زیادہ دشوار محسوس کرتے ہیں۔

(2)
جو شخص پابندی سے اور شوق کے ساتھ یہ نمازیں ادا کرتا ہے وہ عملی طور پر ثابت کردیتا ہے کہ وہ نفاق سے بری ہے۔

(3)
جو عبادت نفس پر زیادہ شاق ہو اس کا ثواب زیادہ ہوتا ہے بشرطیکہ وہ خلاف سنت نہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 797]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:657
657. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز منافقین پر گراں نہیں ہے۔ اگر وہ جان لیں کہ ان دونوں میں کیا (ثواب) ہے تو ان کے لیے ضرور حاضر ہوں اگرچہ انہیں گھٹنوں اور سرینوں کے بل چل کر آنا پڑے۔ میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ مؤذن کو تکبیر کہنے کا حکم دوں، پھر کسی کو لوگوں کی امامت پر مامور کروں اور خود آگ کے شعلے لے کر ان لوگوں کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:657]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں کے گھروں کو جلا دینے کا ارادہ فرمایا تھا وہ منافقین نہ تھے بلکہ ان کا تعلق اہل اسلام سے تھا۔
صرف انھیں ان کی سستی پر خبردار کیا گیا اور ان کے کردار کو ایک منافقانہ کردار قرار دے کر انھیں برے انجام سے ڈرایا گیا۔
ویسے تو منافقین پر تمام نمازیں گراں ہوتی ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ نماز کے لیے منافقین گراں بار اور سست طبیعت کے ساتھ آتے ہیں۔
(التوبة 9: 4)
لیکن عشاء اور فجر زیادہ گراں ہوتی ہیں، کیونکہ عشاء کے وقت کاروباری تھکاوٹ کی وجہ سے آرام اور سکون کرنا ہوتا ہے اور صبح کے وقت نیند کی وجہ سے طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے۔
منافقین کے ہاں قربانی کے جذبات ناپید ہوتے ہیں، اس لیے ان پر یہ دونوں نمازیں بہت بھاری ہوتی ہیں۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عزم کو عملی شکل نہیں دی بلکہ ان کے اہل و عیال کا خیال آنے پر ارادہ ترک کردیا جیسا کہ دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 657]

Bulughul Maram Hadith 316 in Urdu