بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب صلاة الجماعة والإمامة
نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 314
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «صلاة الجماعة أفضل من صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة» . متفق عليه. ولهما: عن أبي هريرة رضي الله عنه:«بخمس وعشرين جزءا» . وكذا للبخاري عن أبي سعيد رضي الله عنه وقال: «درجة» .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”باجماعت نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے ستائیس گناہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔“ اور بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”پچیس گنا زیادہ ثواب ملتا ہے۔“ اور بخاری میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اس میں «جزء» کی جگہ «درجة» کا لفظ ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 314]
«عَنْ» سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ» عبداللہ بن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ» جماعت کی نماز – «أَفْضَلُ» زیادہ فضیلت والی ہے – «مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ» اکیلے کی نماز سے – «بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ» ستائیس – «دَرَجَةً» درجے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلَهُمَا» اور ان دونوں (بخاری و مسلم) کی روایت میں ہے – «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ» پچیس – «جُزْءًا» حصے۔ – «وَكَذَا» اور اسی طرح ہے – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کی روایت میں – «عَنْ أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «وَقَالَ» اور (اس میں) کہا: – «دَرَجَةً» درجے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری و مسلم ہی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”پچیس حصے (زیادہ)۔“ اور اسی طرح بخاری میں سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے ہے، اور انہوں نے (حصے کی بجائے) ”درجے“ کہا۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 314]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری و مسلم ہی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”پچیس حصے (زیادہ)۔“ اور اسی طرح بخاری میں سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے ہے، اور انہوں نے (حصے کی بجائے) ”درجے“ کہا۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 314]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:645، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:650 و حديث أبي هريرة أخرجه البخاري، الأذان، حديث:647، ومسلم، المساجد، حديث:651، وحديث أبي سعيد الخدري أخرجه البخاري، الأذان، حديث:646.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 315
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب فيحتطب ثم آمر بالصلاة فيؤدن لها ثم آمر رجلا فيؤم الناس ثم أخالف إلى رجال لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم والذي نفسي بيده لو يعلم أحدهم أنه يجد عرقا سمينا أو مرمامتين حسنتين لشهد العشاء» . متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات گرامی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں پھر نماز کے لئے اذان کا حکم دوں پھر کسی کو نماز پڑھانے کے لئے کہوں پھر میں خود ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں شریک نہیں ہوتے ان کے گھروں میں موجود ہونے کی صورت میں ان کے گھروں کو ان پر آگ لگا کر جلا دوں۔ قسم اس ذات گرامی کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ان میں سے کسی کو اگر یہ علم ہو جائے کہ اس کو گوشت سے پر موٹی ہڈی مل جائے گی یا دو پائے مل جائیں گے تو نماز عشاء میں لپک کر شامل ہو جائے گا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 315]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «وَالَّذِي» اور قسم ہے اس ذات کی – «نَفْسِي» میری جان – «بِيَدِهِ» جس کے ہاتھ میں ہے – «لَقَدْ هَمَمْتُ» یقیناً میں نے ارادہ کیا – «أَنْ آمُرَ» کہ میں حکم دوں – «بِحَطَبٍ» لکڑیوں کا – «فَيُحْتَطَبَ» پس لکڑیاں اکٹھی کی جائیں – «ثُمَّ» پھر – «آمُرَ» میں حکم دوں – «بِالصَّلَاةِ» نماز کا – «فَيُؤَذَّنَ» پس اذان دی جائے – «لَهَا» اس کے لیے – «ثُمَّ» پھر – «آمُرَ» میں حکم دوں – «رَجُلًا» کسی آدمی کو – «فَيَؤُمَّ» پس وہ امامت کرائے – «النَّاسَ» لوگوں کی – «ثُمَّ» پھر – «أُخَالِفَ» میں (پیچھے سے) جاؤں – «إِلَى رِجَالٍ» ایسے لوگوں کی طرف – «لَا يَشْهَدُونَ» جو حاضر نہیں ہوتے – «الصَّلَاةَ» نماز میں – «فَأُحَرِّقَ» پس میں جلا دوں – «عَلَيْهِمْ» ان پر – «بُيُوتَهُمْ» ان کے گھر – «وَالَّذِي» اور قسم ہے اس ذات کی – «نَفْسِي» میری جان – «بِيَدِهِ» جس کے ہاتھ میں ہے – «لَوْ يَعْلَمُ» اگر جان لے – «أَحَدُهُمْ» ان میں سے کوئی – «أَنَّهُ يَجِدُ» کہ وہ پائے گا – «عَرْقًا» گوشت والی ہڈی – «سَمِينًا» موٹی تازی – «أَوْ» یا – «مِرْمَاتَيْنِ» دو کھر (پائے) – «حَسَنَتَيْنِ» عمدہ – «لَشَهِدَ» تو ضرور حاضر ہوتا – «الْعِشَاءَ» عشاء میں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تو لکڑیاں جمع کی جائیں، پھر نماز کا حکم دوں تو اس کے لیے اذان کہی جائے، پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرائے، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان پر ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہو کہ اسے (مسجد میں) گوشت والی موٹی ہڈی یا دو عمدہ پائے ملیں گے تو وہ ضرور عشاء کی نماز میں حاضر ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 315]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تو لکڑیاں جمع کی جائیں، پھر نماز کا حکم دوں تو اس کے لیے اذان کہی جائے، پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرائے، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان پر ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہو کہ اسے (مسجد میں) گوشت والی موٹی ہڈی یا دو عمدہ پائے ملیں گے تو وہ ضرور عشاء کی نماز میں حاضر ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 315]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب وجوب صلاة الجماعة، حديث:644، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:651.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 316
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا» . متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”منافقین پر سب سے ثقیل و بوجھل نمازیں، نماز عشاء اور نماز فجر ہیں اگر ان کو علم ہو جائے کہ ان دونوں میں حاضر ہونے کا کتنا (عظیم) اجر و ثواب ہے تو یہ لازما ان میں شامل ہوتے خواہ ان کو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑتا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 316]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَثْقَلُ» سب سے بھاری – «الصَّلَاةِ» نماز – «عَلَى الْمُنَافِقِينَ» منافقوں پر – «صَلَاةُ الْعِشَاءِ» عشاء کی نماز – «وَصَلَاةُ الْفَجْرِ» اور فجر کی نماز ہے – «وَلَوْ يَعْلَمُونَ» اور اگر وہ جان لیں – «مَا فِيهِمَا» جو ان دونوں میں (ثواب) ہے – «لَأَتَوْهُمَا» تو ضرور ان میں آئیں – «وَلَوْ» اگرچہ – «حَبْوًا» گھٹنوں کے بل گھسٹ کر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے، اور اگر وہ جان لیں کہ ان دونوں میں کیا (اجر) ہے تو ضرور ان میں آئیں، اگرچہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 316]
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے، اور اگر وہ جان لیں کہ ان دونوں میں کیا (اجر) ہے تو ضرور ان میں آئیں، اگرچہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 316]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب فضل العشاء في الجماعة، حديث:657، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:651.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 317
وعنه رضي الله عنه قال: أتى النبي صلى الله عليه وآله وسلم رجل أعمى فقال: يا رسول الله إنه ليس لي قائد يقودني إلى المسجد فرخص له فلما ولى دعاه فقال: «هل تسمع النداء بالصلاة؟» قال: نعم قال: «فأجب» . رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس ایسا کوئی آدمی نہیں جو مجھے پکڑ کر مسجد میں لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رخصت عنایت فرما دی (کہ وہ گھر پر ہی نماز پڑھ لیا کرے) مگر جب وہ واپس جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بلا کر فرمایا کہ ”تم اذان سنتے ہو؟“ اس نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو پھر اذان کا جواب دے۔“ (یعنی مسجد میں جماعت سے نماز پڑھ) (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 317]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَتَى» آیا – «النَّبِيَّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَجُلٌ» ایک آدمی – «أَعْمَى» نابینا – «فَقَالَ» پس اس نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنَّهُ لَيْسَ لِي» بے شک میرے لیے نہیں ہے – «قَائِدٌ» کوئی رہنمائی کرنے والا – «يَقُودُنِي» جو مجھے لے جائے – «إِلَى الْمَسْجِدِ» مسجد کی طرف – «فَرَخَّصَ» تو آپ نے رخصت دے دی – «لَهُ» اسے – «فَلَمَّا» پھر جب – «وَلَّى» وہ پلٹا – «دَعَاهُ» آپ نے اسے بلایا – «فَقَالَ» اور فرمایا: – «هَلْ تَسْمَعُ» کیا تم سنتے ہو – «النِّدَاءَ» پکار (اذان) – «بِالصَّلَاةِ» نماز کی؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «نَعَمْ» جی ہاں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَأَجِبْ» تو (اس کا) جواب دو (حاضر ہو)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک نابینا آدمی آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی رہنما نہیں جو مجھے مسجد تک لے آئے، تو آپ نے اسے (گھر میں نماز پڑھنے کی) رخصت دے دی۔ پھر جب وہ واپس پلٹا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”تو (اس پکار کا) جواب دو (یعنی مسجد میں حاضر ہو)۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 317]
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک نابینا آدمی آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی رہنما نہیں جو مجھے مسجد تک لے آئے، تو آپ نے اسے (گھر میں نماز پڑھنے کی) رخصت دے دی۔ پھر جب وہ واپس پلٹا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”تو (اس پکار کا) جواب دو (یعنی مسجد میں حاضر ہو)۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 317]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب يجب إتيان المسجد علي من سمع النداء، حديث:653.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 318
وعن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من سمع النداء فلم يأت فلا صلاة له إلا من عذر» . رواه ابن ماجه والدارقطني وابن حبان والحاكم وإسناده على شرط مسلم، لكن رجح بعضهم وقفه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اذان سنے اور پھر نماز باجماعت میں شامل نہ ہو اس کی کوئی نماز نہیں الایہ کہ کوئی عذر مانع نہ ہو۔“
اسے ابن ماجہ، دارقطنی، ابن حبان، حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کی سند مسلم کی شرط کے مطابق ہے لیکن بعض نے اس کے موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 318]
اسے ابن ماجہ، دارقطنی، ابن حبان، حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کی سند مسلم کی شرط کے مطابق ہے لیکن بعض نے اس کے موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 318]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «مَنْ» جس نے – «سَمِعَ» سنی – «النِّدَاءَ» اذان – «فَلَمْ يَأْتِ» پھر نہ آیا – «فَلَا صَلَاةَ» تو کوئی نماز نہیں – «لَهُ» اس کی – «إِلَّا» سوائے – «مِنْ عُذْرٍ» کسی عذر کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ – «وَالدَّارَقُطْنِيُّ» اور دارقطنی – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَإِسْنَادُهُ» اور اس کی سند – «عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» مسلم کی شرط پر ہے – «لَكِنْ» لیکن – «رَجَّحَ» راجح قرار دیا – «بَعْضُهُمْ» ان میں سے بعض نے – «وَقْفَهُ» اس کے موقوف ہونے کو۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے اذان سنی پھر (مسجد میں) نہ آیا تو اس کی کوئی نماز نہیں، سوائے کسی عذر کے۔“ اسے ابن ماجہ، دارقطنی، ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے، اور اس کی سند مسلم کی شرط پر ہے، لیکن بعض (محدثین) نے اس کے موقوف ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 318]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے اذان سنی پھر (مسجد میں) نہ آیا تو اس کی کوئی نماز نہیں، سوائے کسی عذر کے۔“ اسے ابن ماجہ، دارقطنی، ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے، اور اس کی سند مسلم کی شرط پر ہے، لیکن بعض (محدثین) نے اس کے موقوف ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 318]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، المساجد، باب التغليظ في التخلف عن الجماعة، حديث:793، والدار قطني:1 /420، وابن حبان (الإحسان): 3 /253، حديث:2061، والحاكم:1 /245، وتاريخ واسط لبحشل ص:202، وهيشم صرح بالسماع عنده.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 319
وعن يزيد بن الأسود رضي الله عنه أنه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم صلاة الصبح فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا هو برجلين لم يصليا فدعا بهما فجيء بهما ترعد فرئصهما فقال لهما: «ما منعكما أن تصليا معنا؟» قالا: قد صلينا في رحالنا قال: «فلا تفعلا إذا صليتما في رحالكما ثم أدركتما الإمام ولم يصل فصليا معه فإنها لكما نافلة» رواه أحمد واللفظ له والثلاثة وصححه الترمذي وابن حبان.
سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو ایسے دو آدمیوں پر نظر پڑی جنہوں نے نماز (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ) نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو اپنے پاس بلوایا۔ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کئے گئے تو (خوف کے مارے) ان کے شانے کانپ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ” تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟ “ دونوں نے عرض کیا ہم اپنے گھروں پر نماز پڑھ چکے ہیں۔ فرمایا ” ایسا مت کیا کرو۔ اگر تم اپنے گھروں پر نماز پڑھ چکے ہو پھر تم امام کو پا لو اور امام نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ تم نماز پڑھو، یہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی۔ “
اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ متن حدیث کے الفاظ بھی اسی کے ہیں۔ اس کے علاوہ تینوں یعنی ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 319]
اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ متن حدیث کے الفاظ بھی اسی کے ہیں۔ اس کے علاوہ تینوں یعنی ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 319]
«وَعَنْ» اور سے – «يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ» یزید بن اسود – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» کہ انہوں نے – «صَلَّى» نماز پڑھی – «مَعَ» ساتھ – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَاةَ الصُّبْحِ» صبح کی نماز – «فَلَمَّا» پھر جب – «صَلَّى» نماز پڑھ لی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا هُوَ» اچانک آپ نے پایا – «بِرَجُلَيْنِ» دو آدمیوں کو – «لَمْ يُصَلِّيَا» جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی – «فَدَعَا بِهِمَا» تو آپ نے ان دونوں کو بلوایا – «فَجِيءَ بِهِمَا» پس ان دونوں کو لایا گیا – «تُرْعَدُ» کانپ رہے تھے – «فَرَائِصُهُمَا» ان دونوں کے کندھوں کے گوشت – «فَقَالَ» تو فرمایا – «لَهُمَا» ان دونوں سے: – «مَا مَنَعَكُمَا» تمہیں کس چیز نے روکا – «أَنْ تُصَلِّيَا» کہ تم نماز پڑھو – «مَعَنَا» ہمارے ساتھ؟ – «قَالَا» ان دونوں نے کہا: – «قَدْ صَلَّيْنَا» یقیناً ہم نماز پڑھ چکے ہیں – «فِي رِحَالِنَا» اپنے ٹھکانوں میں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَلَا تَفْعَلَا» پس ایسا نہ کرو – «إِذَا صَلَّيْتُمَا» جب تم دونوں نماز پڑھ لو – «فِي رِحَالِكُمَا» اپنے ٹھکانوں میں – «ثُمَّ» پھر – «أَدْرَكْتُمَا» تم دونوں پا لو – «الْإِمَامَ» امام کو – «وَلَمْ يُصَلِّ» اور اس نے نماز نہ پڑھی ہو – «فَصَلِّيَا» تو نماز پڑھو – «مَعَهُ» اس کے ساتھ – «فَإِنَّهَا» کیونکہ بے شک وہ – «لَكُمَا» تمہارے لیے – «نَافِلَةٌ» نفل ہوگی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَاللَّفْظُ لَهُ» اور الفاظ انہی کے ہیں – «وَالثَّلَاثَةُ» اور تینوں (ابو داود، ترمذی، نسائی) نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ دو آدمیوں نے نماز نہیں پڑھی، آپ نے ان دونوں کو بلوایا، انہیں اس حال میں لایا گیا کہ (خوف سے) ان کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا۔ آپ نے ان سے فرمایا: ”تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے کہا: ہم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو پھر امام کو اس حال میں پاؤ کہ اس نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ (بھی) نماز پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور الفاظ انہی کے ہیں، اور تینوں (ابو داود، ترمذی، نسائی) نے بھی، اور ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 319]
اور سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ دو آدمیوں نے نماز نہیں پڑھی، آپ نے ان دونوں کو بلوایا، انہیں اس حال میں لایا گیا کہ (خوف سے) ان کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا۔ آپ نے ان سے فرمایا: ”تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے کہا: ہم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو پھر امام کو اس حال میں پاؤ کہ اس نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ (بھی) نماز پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور الفاظ انہی کے ہیں، اور تینوں (ابو داود، ترمذی، نسائی) نے بھی، اور ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 319]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب فيمن صلي في منزله ثم أدرك...، حديث:575، والترمذي، الصلاة، حديث:219، والنسائي، الإمامة، حديث:859، وابن حبان (الإحسان):3 /50، حديث:1563.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 320
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا ولا تكبروا حتى يكبر وإذا ركع فاركعوا ولا تركعوا حتى يركع وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد وإذا سجد فاسجدوا ولا تسجدوا حتى يسجد وإذا صلى قائما فصلوا قياما وإذا صلى قاعدا فصلوا قعودا أجمعين» . رواه أبو داود وهذا لفظه وأصله في الصحيحين.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”امام کو اسی لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہذا جب وہ «الله اكبر» کہے تو تم بھی «الله اكبر» کہو اور تم (امام سے پہلے) «الله اكبر» نہ کہا کرو یہاں تک کہ وہ تکبیر کہے اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کیا کرو اور تم (امام سے پہلے) رکوع نہ کیا کرو اور جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور اس سے پہلے سجدہ نہ کرو یہاں تک کہ وہ سجدہ کرے۔ جب امام کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ متن حدیث کے الفاظ ابوداؤد کے ہیں اور اس کی اصل صحیحین بخاری و مسلم میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 320]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّمَا» صرف – «جُعِلَ» بنایا گیا ہے – «الْإِمَامُ» امام – «لِيُؤْتَمَّ بِهِ» تاکہ اس کی اقتدا کی جائے – «فَإِذَا» پس جب – «كَبَّرَ» وہ تکبیر کہے – «فَكَبِّرُوا» تو تم تکبیر کہو – «وَلَا تُكَبِّرُوا» اور تکبیر نہ کہو – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يُكَبِّرَ» وہ تکبیر کہہ لے – «وَإِذَا» اور جب – «رَكَعَ» وہ رکوع کرے – «فَارْكَعُوا» تو تم رکوع کرو – «وَلَا تَرْكَعُوا» اور رکوع نہ کرو – «حَتَّى يَرْكَعَ» یہاں تک کہ وہ رکوع کر لے – «وَإِذَا» اور جب – «قَالَ» وہ کہے: – «سَمِعَ اللَّهُ» اللہ نے سن لی – «لِمَنْ حَمِدَهُ» اس کی جس نے اس کی تعریف کی – «فَقُولُوا» تو تم کہو: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «رَبَّنَا» اے ہمارے رب! – «لَكَ الْحَمْدُ» تیرے ہی لیے سب تعریف ہے – «وَإِذَا» اور جب – «سَجَدَ» وہ سجدہ کرے – «فَاسْجُدُوا» تو تم سجدہ کرو – «وَلَا تَسْجُدُوا» اور سجدہ نہ کرو – «حَتَّى يَسْجُدَ» یہاں تک کہ وہ سجدہ کر لے – «وَإِذَا» اور جب – «صَلَّى» وہ نماز پڑھے – «قَائِمًا» کھڑے ہو کر – «فَصَلُّوا» تو تم نماز پڑھو – «قِيَامًا» کھڑے ہو کر – «وَإِذَا» اور جب – «صَلَّى» وہ نماز پڑھے – «قَاعِدًا» بیٹھ کر – «فَصَلُّوا» تو تم نماز پڑھو – «قُعُودًا» بیٹھ کر – «أَجْمَعِينَ» سب کے سب۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَهَذَا لَفْظُهُ» اور یہ الفاظ انہی کے ہیں – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي الصَّحِيحَيْنِ» صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”امام صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب تک وہ تکبیر نہ کہہ لے تم تکبیر نہ کہو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب تک وہ رکوع نہ کر لے تم رکوع نہ کرو، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمدہ» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب تک وہ سجدہ نہ کر لے تم سجدہ نہ کرو، اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور یہ انہی کے الفاظ ہیں، اور اس کی اصل صحیحین میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 320]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”امام صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب تک وہ تکبیر نہ کہہ لے تم تکبیر نہ کہو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب تک وہ رکوع نہ کر لے تم رکوع نہ کرو، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمدہ» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب تک وہ سجدہ نہ کر لے تم سجدہ نہ کرو، اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور یہ انہی کے الفاظ ہیں، اور اس کی اصل صحیحین میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 320]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الإمام يصلي من قعود، حديث:603، 604، وأصله في الصحيحين: البخاري، الأذان، حديث:722، ومسلم، الصلاة، حديث:414.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 321
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رأى في أصحابه تأخرا فقال لهم: «تقدموا فائتموا بي وليأتم بكم من بعدكم» . رواه مسلم.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو پیچھے ہٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا ”آگے آ جاؤ اور میری پیروی کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری پیروی کریں۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 321]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَأَى» نے دیکھا – «فِي أَصْحَابِهِ» اپنے صحابہ میں – «تَأَخُّرًا» پیچھے رہنا – «فَقَالَ» تو فرمایا – «لَهُمْ» ان سے: – «تَقَدَّمُوا» آگے آؤ – «فَأْتَمُّوا بِي» اور میری اقتدا کرو – «وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ» اور تمہاری اقتدا کریں – «مَنْ بَعْدَكُمْ» جو تمہارے بعد (پیچھے) ہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں (صفوں میں) پیچھے رہنے کا رجحان دیکھا تو ان سے فرمایا: ”آگے آؤ اور میری اقتدا کرو، اور جو تمہارے بعد (پیچھے) ہیں وہ تمہاری اقتدا کریں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 321]
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں (صفوں میں) پیچھے رہنے کا رجحان دیکھا تو ان سے فرمایا: ”آگے آؤ اور میری اقتدا کرو، اور جو تمہارے بعد (پیچھے) ہیں وہ تمہاری اقتدا کریں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 321]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب تسوية الصفوف وإقامتها...، حديث:438.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 322
وعن زيد بن ثابت رضي الله عنه قال: احتجر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حجرة بخصفة فصلى فيها فتتبع إليه رجال وجاءوا يصلون بصلاته. الحديث. وفيه: «أفضل صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة» . متفق عليه.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاس پھوس سے بنی ہوئی چٹائی سے ایک چھوٹا (خیمہ نما) حجرہ بنایا اور اس میں نماز پڑھنے لگے۔ لوگوں کو جب معلوم ہوا تو وہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ مرد کی اپنے گھر میں نماز افضل ہے سوائے فرض نماز کے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 322]
«وَعَنْ» اور سے – «زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ» زید بن ثابت – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «احْتَجَرَ» (آڑ کر کے) حجرہ بنایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حُجْرَةً» ایک حجرہ – «بِخَصَفَةٍ» کھجور کے پتوں کی چٹائی سے – «فَصَلَّى» پس آپ نے نماز پڑھی – «فِيهَا» اس میں – «فَتَتَبَّعَ» تو تلاش کرتے ہوئے آئے – «إِلَيْهِ» آپ کی طرف – «رِجَالٌ» کچھ لوگ – «وَجَاءُوا» اور وہ آئے – «يُصَلُّونَ» نماز پڑھتے ہوئے – «بِصَلَاتِهِ» آپ کی نماز کے ساتھ (اقتدا میں)۔ – «الْحَدِيثَ» (آگے پوری) حدیث ہے۔ – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «أَفْضَلُ» سب سے افضل – «صَلَاةِ الْمَرْءِ» آدمی کی نماز – «فِي بَيْتِهِ» اس کے گھر میں ہے – «إِلَّا» سوائے – «الْمَكْتُوبَةَ» فرض نماز کے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے پتوں کی چٹائی سے ایک حجرہ (آڑ) بنایا اور اس میں نماز پڑھنے لگے، تو کچھ لوگ آپ کو تلاش کرتے ہوئے آئے اور آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنے لگے۔ پھر (پوری) حدیث ذکر کی، اور اس میں ہے: ”آدمی کی سب سے افضل نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو، سوائے فرض نماز کے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 322]
اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے پتوں کی چٹائی سے ایک حجرہ (آڑ) بنایا اور اس میں نماز پڑھنے لگے، تو کچھ لوگ آپ کو تلاش کرتے ہوئے آئے اور آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنے لگے۔ پھر (پوری) حدیث ذکر کی، اور اس میں ہے: ”آدمی کی سب سے افضل نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو، سوائے فرض نماز کے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 322]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب صلاة الليل، حديث:731، ومسلم، صلاة المسافرين، باب استحباب صلاة النافلة في بيته، حديث:781.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 323
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: صلى معاذ بأصحابه العشاء فطول عليهم فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «أتريد يا معاذ أن تكون فتانا؟ إذا أممت الناس فاقرأ بالشمس وضحاها و: سبح اسم ربك الأعلى و: اقرأ باسم ربك, والليل إذا يغشى. متفق عليه واللفظ لمسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنے مقتدیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی۔ انہوں نے قرآت لمبی کر دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تو نمازیوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ جب تو لوگوں کو امامت کرائے تو «والشمس وضحاها» اور «سبح اسم ربك الأعلى» (سورۃ «الشمس» و سورۃ «الأعلى») اور «اقرأ باسم ربك» (سورۃ «العلق») «والليل إذا يغشى» (سورۃ «الليل») پڑھا کرو“ بخاری و مسلم دونوں نے اسے روایت کیا ہے۔ متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 323]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّى» نماز پڑھائی – «مُعَاذٌ» معاذ نے – «بِأَصْحَابِهِ» اپنے ساتھیوں کو – «الْعِشَاءَ» عشاء کی – «فَطَوَّلَ» تو لمبی کر دی – «عَلَيْهِمْ» ان پر – «فَقَالَ» تو فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَتُرِيدُ» کیا تم چاہتے ہو – «يَا مُعَاذُ» اے معاذ! – «أَنْ تَكُونَ» کہ تم ہو جاؤ – «فَتَّانًا» فتنے میں ڈالنے والے؟ – «إِذَا» جب – «أَمَمْتَ» تم امامت کراؤ – «النَّاسَ» لوگوں کی – «فَاقْرَأْ» تو پڑھو – «بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا» والشمس وضحاها – «وَ» اور – «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» سبح اسم ربك الأعلى – «وَ» اور – «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ» اقرأ باسم ربك – «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» اور والليل إذا يغشى۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِمُسْلِمٍ» مسلم کے ہیں۔
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور ان پر نماز لمبی کر دی، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم فتنے میں ڈالنے والے بننا چاہتے ہو؟ جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «اقرأ باسم ربك» اور «والليل إذا يغشى» پڑھا کرو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 323]
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور ان پر نماز لمبی کر دی، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم فتنے میں ڈالنے والے بننا چاہتے ہو؟ جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «اقرأ باسم ربك» اور «والليل إذا يغشى» پڑھا کرو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 323]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب إذا طول الإمام وكان للرجل حاجة فخرج فصلي، حديث:701، ومسلم، الصلاة، باب القراءة في العشاء، حديث:465.»
الحكم على الحديث:
صحيح