بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
لباس کا بیان
حدیث نمبر: 423
وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: رأى علي النبي صلى الله عليه وآله وسلم ثوبين معصفرين فقال: «أمك أمرتك بهذا؟» . رواه مسلم.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم پر زرد رنگ کے دو کپڑے دیکھے تو فرمایا ”کیا تیری والدہ نے تجھے یہ پہننے کا حکم دیا ہے؟“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 423]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، اللباس، باب النهي عن لبس الرجل الثوب المعصفر، حديث:2077.»
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 423 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 423
تخریج:
«أخرجه مسلم، اللباس، باب النهي عن لبس الرجل الثوب المعصفر، حديث:2077.» تشریح:
بعض علماء نے اس کا یہ مفہوم بھی بیان کیا ہے: کیا اسے تیری ماں نے تجھے پہنایا ہے؟ یعنی یہ رنگ تو خواتین پہنتی ہیں‘ اس لیے تیری ماں نے تجھے پہنا دیا۔
یہ غالباً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ اور زجر و توبیخ کے طور پر فرمایا۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں اسے دھو ڈالوں؟ تو آپ نے فرمایا: ”نہیں جلا کر خاکستر کر دو۔
“ (صحیح مسلم‘ اللباس والزینۃ‘ حدیث:۲۰۷۷)
«أخرجه مسلم، اللباس، باب النهي عن لبس الرجل الثوب المعصفر، حديث:2077.»
بعض علماء نے اس کا یہ مفہوم بھی بیان کیا ہے: کیا اسے تیری ماں نے تجھے پہنایا ہے؟ یعنی یہ رنگ تو خواتین پہنتی ہیں‘ اس لیے تیری ماں نے تجھے پہنا دیا۔
یہ غالباً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ اور زجر و توبیخ کے طور پر فرمایا۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں اسے دھو ڈالوں؟ تو آپ نے فرمایا: ”نہیں جلا کر خاکستر کر دو۔
“ (صحیح مسلم‘ اللباس والزینۃ‘ حدیث:۲۰۷۷)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 423]