بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب المسح على الخفين
موزوں پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 60
وعن أبي بكرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم: أنه رخص للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن، وللمقيم يوما وليلة، إذا تطهر فلبس خفيه: أن يمسح عليهما. أخرجه الدارقطني وصححه ابن خزيمة.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے (مسح کی مدت) تین دن اور تین راتوں کی رخصت فرمائی ہے اور مقیم کیلئے ایک دن اور ایک رات۔ اس حالت میں کہ اس نے باوضو ہو کر موزے پہنے ہوں تو ان پر مسح کر لینا چاہیئے۔
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 60]
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 60]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي بَكْرَةَ» ابو بکرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ» سے – «النَّبِيِّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «أَنَّهُ» بیشک آپ نے – «رَخَّصَ» رخصت (اجازت) دی – «لِلْمُسَافِرِ» مسافر کے لیے – «ثَلَاثَةَ» تین – «أَيَّامٍ» دن – «وَلَيَالِيَهُنَّ» اور ان کی راتوں کی، – «وَلِلْمُقِيمِ» اور مقیم کے لیے – «يَوْمًا» ایک دن – «وَلَيْلَةً» اور ایک رات کی، – «إِذَا» جب – «تَطَهَّرَ» اس نے پاکی حاصل کی ہو – «فَلَبِسَ» پھر پہنے ہوں – «خُفَّيْهِ» اپنے دونوں موزے: – «أَنْ يَمْسَحَ» کہ وہ مسح کرے – «عَلَيْهِمَا» ان دونوں پر۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے روایت ہے کہ: بیشک آپ نے مسافر کے لیے تین دن اور ان کی راتوں کی، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات کی رخصت دی ہے، کہ جب اس نے پاکی حاصل کر کے اپنے دونوں موزے پہنے ہوں تو وہ ان دونوں پر مسح کرے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 60]
اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے روایت ہے کہ: بیشک آپ نے مسافر کے لیے تین دن اور ان کی راتوں کی، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات کی رخصت دی ہے، کہ جب اس نے پاکی حاصل کر کے اپنے دونوں موزے پہنے ہوں تو وہ ان دونوں پر مسح کرے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 60]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدار قطني، الطهارة، باب ما في المسح علي الخفين من غير توقيت: 1 / 204، وابن خزيمة: 1 / 96، حديث: 192، وابن حبان(الموارد)، حديث:184.»
الحكم على الحديث:
حسن
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 60 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 60
راویٔ حدیث: (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) ان کا نام نفیع (نافع کی تصغیر) بن حارث یا ابن مسروح ہے۔ یہ طائف کے قلعے سے کچھ نوجوانوں کے ہمراہ چرخی کے ذریعے سے باہر آئے اور اسلام قبول کرلیا۔ چونکہ چرخی کو ”بکرۃ“ کہتے ہیں، اس لیے ان کی یہ کنیت مشہور ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا۔ یہ فضلاء صحابہ میں شمار کیے جاتے ہیں، کثیر الاولاد تھے۔ 51 یا 52 ہجری میں بصرہ کے مقام پر وفات پائی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 60]
Bulughul Maram Hadith 60 in Urdu