🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب صفة الحج ودخول مكة
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 607
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حج فخرجنا معه حتى إذا أتينا ذا الحليفة فولدت أسماء بنت عميس فقال: «اغتسلي واستثفري بثوب وأحرمي» ‏‏‏‏ وصلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في المسجد ثم ركب القصواء حتى إذا استوت به على البيداء أهل بالتوحيد «‏‏‏‏لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ‏‏‏‏ حتى إذا أتينا البيت استلم الركن فرمل ثلاثا ومشى أربعا ثم نفر إلى مقام إبراهيم فصلى ثم رجع إلى الركن فاستلمه ثم خرج من الباب إلى الصفا فلما دنا من الصفا قرأ «‏‏‏‏أبدأ بما بدأ الله به» ‏‏‏‏ فرقى الصفا حتى رأى البيت فاستقبل القبلة فوحد الله وكبره وقال: «‏‏‏‏لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» ‏‏‏‏ ثم دعا بين ذلك ثلاث مرات ثم نزل إلى المروة حتى إذا انصبت قدماه في بطن الوادي سعى حتى إذا صعدتا مشى حتى أتى المروة ففعل على المروة كما فعل على الصفا فذكر الحديث وفيه: فلما كان يوم التروية توجهوا إلى منى فأهلوا بالحج وركب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فصلى بها الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر ثم مكث قليلا حتى طلعت الشمس فأجاز حتى أتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة فنزل بها حتى إذا زاغت الشمس أمر بالقصواء فرحلت له فأتى بطن الوادي فخطب الناس ثم أذن ثم أقام فصلى الظهر ثم أقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شيئا ثم ركب حتى أتى الموقف فجعل بطن ناقته القصواء إلى الصخرات وجعل حبل المشاة بين يديه واستقبل القبلة فلم يزل واقفا حتى غربت الشمس وذهبت الصفرة قليلا حتى غاب القرص ودفع وقد شنق للقصواء الزمام حتى إن رأسها ليصيب مورك رحله ويقول بيده اليمنى: «‏‏‏‏أيها الناس السكينة السكينة» ‏‏‏‏ كلما أتى حبلا من الحبال أرخى لها قليلا حتى تصعد حتى أتى المزدلفة فصلى بها المغرب والعشاء بأذان واحد وإقامتين ولم يسبح بينهما شيئا ثم اضطجع حتى طلع الفجر فصلى الفجر حين تبين له الصبح بأذان وإقامة ثم ركب القصواء حتى أتى المشعر الحرام فاستقبل القبلة فدعا وكبر وهلل فلم يزل واقفا حتى أسفر جدا فدفع قبل أن تطلع الشمس حتى أتى بطن محسر فحرك قليلا ثم سلك الطريق الوسطى التي تخرج على الجمرة الكبرى حتى أتى الجمرة التي عند الشجرة فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها مثل حصى الخذف رمى من بطن الوادي ثم انصرف إلى المنحر فنحر ثم ركب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فأفاض إلى البيت فصلى بمكة الظهر. رواه مسلم مطولا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے بچہ جنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غسل کر اور کسی کپڑے سے لنگوٹ باندھ لے اور احرام باندھ لے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی اور قصواء (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام) پر سوار ہو گئے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیداء کے برابر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحیدی تلبیہ پکارا «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں، اے میرے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلا شک سب تعریفیں اور انعامات تیرے ہیں۔ بادشاہت بھی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ رکن (اسود) کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ دیا، تین بار رمل کیا اور چار بار معمول کے مطابق چلے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم پر آئے اور نماز پڑھی پھر رکن (حجر اسود) کی طرف واپس آئے اور اس کو بوسہ دیا۔ پھر مسجد الحرام کے دروازہ سے صفا کی طرف نکلے جب صفا کے نزدیک پہنچے تو یہ آیت پڑھی۔ ”تحقیق صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ (پھر فرمایا) ”میں شروع کرتا ہوں (سعی کو) اس مقام سے کہ جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے۔“ پھر صفا پر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو دیکھا۔ پھر قبلہ رخ ہوئے اور اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان کی اور کہا ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ بادشاہی اور سب خوبیاں اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور کفار کی جماعت کو اکیلے اسی نے شکست دی۔“ پھر اس کے درمیان تین بار دعا کی۔ پھر صفا سے اترے اور مروہ کی طرف گئے۔ یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں وادی کے نشیب میں پڑے تو دوڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشیب سے اوپر چڑھے اور مروہ کی طرف چلے۔ مروہ پر وہی کچھ کیا جو صفا پر کیا تھا۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ نے ساری حدیث بیان کی جس میں یہ ہے کہ جب ترویہ کا دن (8 ذی الحج) ہوا تو لوگ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے پھر وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو وہاں سے روانہ ہوئے اور مزدلفہ سے گزرتے ہوئے عرفات میں پہنچے تو خیمہ میں اترے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے نمرہ میں لگایا گیا تھا۔ پھر جب سورج ڈھلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصواء پر پالان رکھنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر وادی کے درمیان میں آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا پھر اذان دلوائی پھر اقامت کہلوائی تو نماز ظہر ادا کی پھر اقامت کہلوائی تو عصر کی نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی۔ پھر سوار ہو کر ٹھہرنے کی جگہ پر پہنچے تو اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور راہ چلنے والوں کو اپنے سامنے کر لیا اور اپنا رخ قبلہ کی جانب کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ٹھہرے رہے کہ سورج غروب ہونے لگا اور تھوڑی سی زردی ختم ہو گئی حتیٰ کہ سورج مکمل طور پر غروب ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں واپس ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصواء کی باگ اتنی تنگ کر رکھی تھی کہ اس کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پالان کے اگلے ابھرے ہوئے حصے کو پہنچتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے تھے ”اے لوگو! تسکین و اطمینان اختیار کرو“ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ٹیلے پر آتے تو باگ تھوڑی سی ڈھیلی کر دیتے کہ وہ اوپر چڑھ جاتی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور دونوں کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی۔ پھر لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ جب صبح کا وقت ظاہر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت سے فجر کی نماز پڑھی۔ پھر سوار ہو کر مشعر حرام پر آئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہوئے دعا کی اور تکبیر و تہلیل کہتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اچھی طرح سفیدی ظاہر ہونے تک ٹھہرے رہے پھر سورج نکلنے سے پہلے واپس ہو کر وادی محسر کے نشیب میں آ گئے تو سواری کو کچھ تیز کر دیا۔ پھر درمیانی راستہ پر چلے جو جمرہ کبریٰ (بڑا شیطان) پر پہنچتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جمرہ پر آئے جو درخت کے پاس ہے تو اسے سات کنکریاں وادی کے نشیب سے ماریں، ہر کنکری کے ساتھ «الله اكبر» کہتے تھے، ان میں سے ہر کنکری خذف (لوبیے کے دانے) کے برابر تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف گئے اور وہاں قربانی کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے۔ پھر مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی۔ اسے مسلم نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 607]
«عَنْ» سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حَجَّ» نے حج کیا – «فَخَرَجْنَا مَعَهُ» تو ہم آپ کے ساتھ نکلے – «حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا» یہاں تک کہ جب ہم پہنچے – «ذَا الْحُلَيْفَةِ» ذوالحلیفہ – «فَوَلَدَتْ» تو بچہ جنا – «أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ» اسماء بنت عمیس نے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «اغْتَسِلِي» غسل کر لو – «وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ» اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو – «وَأَحْرِمِي» اور احرام باندھ لو – «وَصَلَّى» اور نماز پڑھی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں – «ثُمَّ رَكِبَ» پھر سوار ہوئے – «الْقَصْوَاءَ» قصواء (اونٹنی) پر – «حَتَّى إِذَا» یہاں تک کہ جب – «اسْتَوَتْ بِهِ» وہ آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی – «عَلَى الْبَيْدَاءِ» بیداء پر – «أَهَلَّ» آپ نے آواز بلند کی – «بِالتَّوْحِيدِ» توحید کے ساتھ: – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «لَا شَرِيكَ لَكَ» تیرا کوئی شریک نہیں – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «إِنَّ الْحَمْدَ» بے شک تعریف – «وَالنِّعْمَةَ» اور نعمت – «لَكَ» تیرے ہی لیے ہے – «وَالْمُلْكَ» اور بادشاہی (بھی) – «لَا شَرِيكَ لَكَ» تیرا کوئی شریک نہیں – «حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا» یہاں تک کہ جب ہم پہنچے – «الْبَيْتَ» بیت اللہ – «اسْتَلَمَ الرُّكْنَ» آپ نے رکن (حجر اسود) کا استلام کیا – «فَرَمَلَ» پھر رمل کیا – «ثَلَاثًا» تین (چکروں) میں – «وَمَشَى أَرْبَعًا» اور چار میں (عام) چلے – «ثُمَّ نَفَرَ» پھر آگے بڑھے – «إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ» مقام ابراہیم کی طرف – «فَصَلَّى» پس نماز پڑھی – «ثُمَّ رَجَعَ» پھر لوٹے – «إِلَى الرُّكْنِ» رکن کی طرف – «فَاسْتَلَمَهُ» پس اس کا استلام کیا – «ثُمَّ خَرَجَ» پھر نکلے – «مِنَ الْبَابِ» دروازے سے – «إِلَى الصَّفَا» صفا کی طرف – «فَلَمَّا دَنَا» پس جب قریب ہوئے – «مِنَ الصَّفَا» صفا کے – «قَرَأَ» پڑھا (اور فرمایا): – «أَبْدَأُ» میں شروع کرتا ہوں – «بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ» اس سے جس سے اللہ نے شروع کیا – «فَرَقِيَ الصَّفَا» پھر صفا پر چڑھے – «حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ» یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا – «فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ» پس قبلہ رخ ہوئے – «فَوَحَّدَ اللَّهَ» پس اللہ کی توحید بیان کی – «وَكَبَّرَهُ» اور اس کی بڑائی بیان کی – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «وَحْدَهُ» وہ اکیلا ہے – «لَا شَرِيكَ لَهُ» اس کا کوئی شریک نہیں – «لَهُ الْمُلْكُ» اسی کی بادشاہی ہے – «وَلَهُ الْحَمْدُ» اور اسی کی تعریف ہے – «وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ» اور وہ ہر چیز پر – «قَدِيرٌ» قادر ہے – «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «وَحْدَهُ» وہ اکیلا ہے – «أَنْجَزَ وَعْدَهُ» اس نے اپنا وعدہ پورا کیا – «وَنَصَرَ عَبْدَهُ» اور اپنے بندے کی مدد کی – «وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ» اور لشکروں کو شکست دی – «وَحْدَهُ» اکیلے – «ثُمَّ دَعَا» پھر دعا کی – «بَيْنَ ذَلِكَ» اس کے درمیان – «ثَلَاثَ مَرَّاتٍ» تین مرتبہ – «ثُمَّ نَزَلَ» پھر اترے – «إِلَى الْمَرْوَةِ» مروہ کی طرف – «حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ» یہاں تک کہ جب اتر گئے – «قَدَمَاهُ» آپ کے دونوں قدم – «فِي بَطْنِ الْوَادِي» وادی کے نشیب میں – «سَعَى» تو دوڑے – «حَتَّى إِذَا صَعِدَتَا» یہاں تک کہ جب وہ (قدم) چڑھنے لگے – «مَشَى» تو (عام رفتار سے) چلے – «حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ» یہاں تک کہ مروہ پر آئے – «فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ» پس مروہ پر کیا – «كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا» جیسے صفا پر کیا تھا – «فَذَكَرَ الْحَدِيثَ» پھر (راوی نے) حدیث ذکر کی – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «فَلَمَّا كَانَ» پس جب ہوا – «يَوْمُ التَّرْوِيَةِ» ترویہ کا دن (آٹھ ذوالحجہ) – «تَوَجَّهُوا» وہ متوجہ ہوئے – «إِلَى مِنًى» منیٰ کی طرف – «فَأَهَلُّوا بِالْحَجِّ» اور حج کا تلبیہ پکارا – «وَرَكِبَ» اور سوار ہوئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَصَلَّى بِهَا» پس وہاں پڑھیں – «الظُّهْرَ» ظہر – «وَالْعَصْرَ» اور عصر – «وَالْمَغْرِبَ» اور مغرب – «وَالْعِشَاءَ» اور عشاء – «وَالْفَجْرَ» اور فجر – «ثُمَّ مَكَثَ» پھر ٹھہرے – «قَلِيلًا» تھوڑی دیر – «حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ» یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا – «فَأَجَازَ» پھر (مزدلفہ سے) آگے گزر گئے – «حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ» یہاں تک کہ عرفہ آئے – «فَوَجَدَ الْقُبَّةَ» تو خیمہ پایا – «قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ» جو آپ کے لیے لگا دیا گیا تھا – «بِنَمِرَةَ» نمرہ میں – «فَنَزَلَ بِهَا» پس وہاں اترے – «حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ» یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا – «أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ» قصواء کا حکم دیا – «فَرُحِلَتْ لَهُ» تو آپ کے لیے اس پر پالان کسا گیا – «فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي» پھر وادی کے نشیب میں آئے – «فَخَطَبَ النَّاسَ» پس لوگوں کو خطبہ دیا – «ثُمَّ أَذَّنَ» پھر اذان کہی گئی – «ثُمَّ أَقَامَ» پھر اقامت کہی گئی – «فَصَلَّى الظُّهْرَ» پس ظہر پڑھی – «ثُمَّ أَقَامَ» پھر اقامت کہی گئی – «فَصَلَّى الْعَصْرَ» پس عصر پڑھی – «وَلَمْ يُصَلِّ» اور نہیں پڑھی – «بَيْنَهُمَا» ان دونوں کے درمیان – «شَيْئًا» کوئی (نماز) – «ثُمَّ رَكِبَ» پھر سوار ہوئے – «حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ» یہاں تک کہ وقوف کی جگہ آئے – «فَجَعَلَ» پس کیا – «بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ» اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ – «إِلَى الصَّخَرَاتِ» چٹانوں کی طرف – «وَجَعَلَ» اور کیا – «حَبْلَ الْمُشَاةِ» پیدل چلنے والوں کے راستے (ریت کے ٹیلے) کو – «بَيْنَ يَدَيْهِ» اپنے سامنے – «وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ» اور قبلہ رخ ہوئے – «فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا» پس مسلسل ٹھہرے رہے – «حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ» یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا – «وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ» اور زردی چلی گئی – «قَلِيلًا» کچھ – «حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ» یہاں تک کہ ٹکیہ غائب ہو گئی – «وَدَفَعَ» اور (عرفہ سے) روانہ ہوئے – «وَقَدْ شَنَقَ» اور تحقیق کھینچ رکھی تھی – «لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ» قصواء کی مہار – «حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا» یہاں تک کہ اس کا سر – «لَيُصِيبُ» ضرور لگ رہا تھا – «مَوْرِكَ رَحْلِهِ» آپ کے پالان کے اگلے حصے (پاؤں رکھنے کی جگہ) سے – «وَيَقُولُ» اور فرما رہے تھے – «بِيَدِهِ الْيُمْنَى» اپنے دائیں ہاتھ سے (اشارہ کرتے ہوئے): – «أَيُّهَا النَّاسُ» اے لوگو – «السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ» اطمینان (اختیار کرو)، اطمینان – «كُلَّمَا أَتَى» جب بھی آتے – «حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ» ریت کے ٹیلوں میں سے کسی ٹیلے پر – «أَرْخَى لَهَا» اس (کی مہار) کو ڈھیلا کر دیتے – «قَلِيلًا» تھوڑا سا – «حَتَّى تَصْعَدَ» تاکہ وہ چڑھ جائے – «حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ» یہاں تک کہ مزدلفہ آئے – «فَصَلَّى بِهَا» پس وہاں پڑھیں – «الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ» مغرب اور عشاء – «بِأَذَانٍ وَاحِدٍ» ایک اذان – «وَإِقَامَتَيْنِ» اور دو اقامتوں کے ساتھ – «وَلَمْ يُسَبِّحْ» اور نفل نہیں پڑھے – «بَيْنَهُمَا شَيْئًا» ان دونوں کے درمیان کچھ بھی – «ثُمَّ اضْطَجَعَ» پھر لیٹ گئے – «حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ» یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی – «فَصَلَّى الْفَجْرَ» پس فجر پڑھی – «حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ» جب آپ کے لیے واضح ہو گئی – «الصُّبْحُ» صبح – «بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ» اذان اور اقامت کے ساتھ – «ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ» پھر قصواء پر سوار ہوئے – «حَتَّى أَتَى» یہاں تک کہ آئے – «الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ» مشعر حرام پر – «فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ» پس قبلہ رخ ہوئے – «فَدَعَا» پس دعا کی – «وَكَبَّرَ» اور اللہ اکبر کہا – «وَهَلَّلَ» اور لا الہ الا اللہ کہا – «فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا» پس مسلسل ٹھہرے رہے – «حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا» یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی – «فَدَفَعَ» پھر روانہ ہوئے – «قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ» سورج طلوع ہونے سے پہلے – «حَتَّى أَتَى» یہاں تک کہ آئے – «بَطْنَ مُحَسِّرٍ» وادی محسر میں – «فَحَرَّكَ قَلِيلًا» تو (سواری کو) کچھ تیز کیا – «ثُمَّ سَلَكَ» پھر چلے – «الطَّرِيقَ الْوُسْطَى» درمیانے راستے پر – «الَّتِي تَخْرُجُ» جو نکلتا ہے – «عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى» بڑے جمرہ پر – «حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ» یہاں تک کہ اس جمرہ پر آئے – «الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ» جو درخت کے پاس ہے – «فَرَمَاهَا» پس اسے مارا – «بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ» سات کنکریوں سے – «يُكَبِّرُ» اللہ اکبر کہتے تھے – «مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا» ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ – «مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ» ٹھیکری (انگلیوں سے پھینکی جانے والی) کنکریوں جیسی – «رَمَى» آپ نے رمی کی – «مِنْ بَطْنِ الْوَادِي» وادی کے نشیب سے – «ثُمَّ انْصَرَفَ» پھر لوٹے – «إِلَى الْمَنْحَرِ» قربان گاہ کی طرف – «فَنَحَرَ» پس قربانی کی – «ثُمَّ رَكِبَ» پھر سوار ہوئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَأَفَاضَ» پس (طواف افاضہ کے لیے) روانہ ہوئے – «إِلَى الْبَيْتِ» بیت اللہ کی طرف – «فَصَلَّى بِمَكَّةَ» پس مکہ میں پڑھی – «الظُّهْرَ» ظہر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «مُطَوَّلًا» تفصیل کے ساتھ۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کیا تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”غسل کر لو، کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو اور احرام باندھ لو۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پھر قصواء (اونٹنی) پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ آپ کو لے کر بیداء پر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے توحید والا تلبیہ بلند آواز سے پکارا: ”لبیک اللّٰہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک، لا شریک لک“ (میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، بے شک تعریف، نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ یہاں تک کہ جب ہم بیت اللہ پہنچے تو آپ نے رکن (حجر اسود) کا استلام کیا، پھر تین چکروں میں رمل کیا اور چار میں عام رفتار سے چلے، پھر مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اور نماز پڑھی، پھر رکن کی طرف لوٹ کر اس کا استلام کیا، پھر دروازے سے صفا کی طرف نکلے، جب صفا کے قریب ہوئے تو (آیت) پڑھی اور فرمایا: ”میں اسی سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔“ پھر صفا پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھ لیا، قبلہ رخ ہوئے، اللہ کی توحید اور بڑائی بیان کی اور فرمایا: ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی (کافروں کے) لشکروں کو شکست دی۔“ پھر اس کے درمیان دعا کی، تین مرتبہ (ایسا کیا)، پھر مروہ کی طرف اترے، یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچے تو دوڑے، اور جب (قدم) چڑھائی پر آئے تو عام رفتار سے چلے یہاں تک کہ مروہ پر آئے، اور مروہ پر بھی ویسے ہی کیا جیسے صفا پر کیا تھا۔ پھر (راوی نے) پوری حدیث ذکر کی، اور اس میں ہے: جب ترویہ کا دن (آٹھ ذوالحجہ) ہوا تو لوگ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور حج کا تلبیہ پکارا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور وہاں (منیٰ میں) ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر آگے چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو دیکھا کہ نمرہ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ اس میں اترے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو قصواء کے بارے میں حکم دیا، اس پر پالان کسا گیا، پھر آپ وادی کے نشیب میں آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا، پھر اذان کہی گئی، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے ظہر پڑھائی، پھر اقامت کہی گئی تو عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ پھر سوار ہو کر وقوف کی جگہ آئے، اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ چٹانوں کی طرف کیا اور پیدل چلنے والوں کے راستے (ریت کے ٹیلے) کو اپنے سامنے رکھا اور قبلہ رخ ہو گئے، پھر مسلسل ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور کچھ زردی بھی جاتی رہی اور سورج کی ٹکیہ پوری طرح غائب ہو گئی، تب آپ روانہ ہوئے، اور آپ نے قصواء کی مہار اس قدر کھینچ رکھی تھی کہ اس کا سر آپ کے پالان کے اگلے حصے سے لگ رہا تھا، اور آپ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اطمینان سے، اطمینان سے۔“ جب بھی ریت کے کسی ٹیلے پر آتے تو اس کی مہار تھوڑی ڈھیلی کر دیتے تاکہ وہ چڑھ جائے، یہاں تک کہ مزدلفہ آئے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ مغرب اور عشاء پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھے، پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، اور جب صبح واضح ہو گئی تو اذان اور اقامت کے ساتھ فجر پڑھی، پھر قصواء پر سوار ہو کر مشعر حرام آئے، قبلہ رخ ہوئے، دعا کی، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہا، اور مسلسل ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی، پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہوئے یہاں تک کہ وادی محسر میں آئے تو (سواری کو) کچھ تیز کیا، پھر درمیانے راستے پر چلے جو بڑے جمرہ پر نکلتا ہے، یہاں تک کہ اس جمرہ پر آئے جو درخت کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے، (کنکریاں) ٹھیکری کی کنکریوں جیسی (چھوٹی) تھیں، آپ نے وادی کے نشیب سے رمی کی، پھر قربان گاہ کی طرف لوٹے اور قربانی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف (طواف افاضہ کے لیے) روانہ ہوئے اور ظہر کی نماز مکہ میں پڑھی۔ اسے مسلم نے تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 607]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب حجة النبي صلي الله عليه وسلم، حديث:1218.»

الحكم على الحديث:
صحيح


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
215
مرها أن تغتسل وتهل
سنن النسائى الصغرى
292
اغتسلي واستثفري ثم أهلي
سنن النسائى الصغرى
392
مرها أن تغتسل وتهل
سنن النسائى الصغرى
429
اغتسلي ثم استثفري ثم أهلي
صحيح البخاري
1785
أهل وأصحابه بالحج وليس مع أحد منهم هدي غير النبي وطلحة وكان علي قدم من اليمن ومعه الهدي أهللت بما أهل به رسول الله وأن النبي أذن لأصحابه أن يجعلوها عمرة يطوفوا بالبيت ثم يقصروا ويحلوا إلا من م
صحيح مسلم
2950
مكث تسع سنين لم يحج ثم أذن في الناس في العاشرة أن رسول الله حاج فقدم المدينة بشر كثير كلهم يلتمس أن يأتم برسول الله ويعمل مثل عمله خرجنا معه حتى أتينا ذا الحليفة فولدت أسماء بنت عميس محمد بن أبي بكر
صحيح مسلم
2909
تغتسل وتهل
سنن أبي داود
1905
مكث تسع سنين لم يحج ثم أذن في الناس في العاشرة أن رسول الله حاج ولدت أسماء بنت عميس محمد بن أبي بكر فأرسلت إلى رسول الله كيف أصنع اغتسلي واستذفري بثوب وأحرمي صلى رسول الله في المسجد ثم ركب القصواء حتى إذا استوت به ناقته على البيداء أهل رسول الله بالتوحيد
سنن ابن ماجه
3074
مكث تسع سنين لم يحج فأذن في الناس في العاشرة أن رسول الله حاج خرج وخرجنا معه فأتينا ذا الحليفة فولدت أسماء بنت عميس محمد بن أبي بكر
سنن ابن ماجه
2913
أمرها أن تغتسل وتستثفر بثوب وتهل
سنن النسائى الصغرى
2741
مكث بالمدينة تسع حجج ثم أذن في الناس أن رسول الله حاج في هذا العام فنزل المدينة بشر كثير كلهم يلتمس أن يأتم برسول الله ويفعل ما يفعل فخرج رسول الله لخمس بقين من ذي القعدة وخرجنا معه
سنن النسائى الصغرى
2762
اغتسلي واستثفري بثوب ثم أهلي
سنن النسائى الصغرى
2763
تغتسل وتستثفر بثوبها وتهل
سنن النسائى الصغرى
2764
هذا أمر كتبه الله على بنات آدم اغتسلي ثم أهلي بالحج ففعلت وقفت المواقف حتى إذا طهرت طافت بالكعبة وبالصفا والمروة قد حللت من حجتك وعمرتك جميعا فقالت يا رسول الله إني أجد في نفسي أني لم أطف بالبيت حتى حججت قال فاذهب بها يا عبد الرحمن فأعمرها
بلوغ المرام
44
‏‏‏‏ابدءوا بما بدا الله به . اخرجه النسائي هكذا بلفظ الامر،‏‏‏‏ وهو عند مسلم بلفظ الخبر
بلوغ المرام
607
حج فخرجنا معه حتى إذا اتينا ذا الحليفة فولدت اسماء بنت عميس
المعجم الصغير للطبراني
865
إني تارك فيكم الثقلين أحدهما أكبر من الآخر : كتاب الله عز وجل حبل ممدود من السماء إلى الأرض ، وعترتي أهل بيتي ، وإنهما لن يفترقا حتى يردا على الحوض
المعجم الصغير للطبراني
867
إني تارك فيكم الثقلين ما إن تمسكتم به لن تضلوا كتاب الله وعترتي ، وإنهما لن يفترقا حتى يردا على الحوض
مسندالحميدي
1304
نبدأ بما بدأ الله به
مسندالحميدي
1305
لما تصوبت قدما رسول الله صلى الله عليه وسلم في الوادي رمل حتى جاز الوادي
Bulughul Maram Hadith 607 in Urdu