بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب شروطه وما نهي عنه منه
بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام
حدیث نمبر: 678
وعن علي بن أبي طالب رضي الله تعالى عنه قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن أبيع غلامين أخوين، فبعتهما، ففرقت بينهما، فذكرت ذلك للنبي لى الله عليه وآله وسلم فقال:«أدركهما فارتجعهما، ولا تبعهما إلا جميعا» . رواه أحمد، ورجاله ثقات، و قد صححه ابن خزيمة وابن الجارود وابن حبان والحاكم والطبراني وابن القطان.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں دو غلام بھائیوں کو فروخت کروں۔ میں نے ان دونوں کو الگ الگ آدمیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دونوں کو جا کر واپس لے آؤ اور اکٹھا ہی فروخت کرو۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں اور اسے ابن خزیمہ، ابن جارود، ابن حبان، حاکم، طبرانی اور ابن قطان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 678]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ» علی بن ابی طالب – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے مجھے حکم دیا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنْ أَبِيعَ» کہ میں بیچوں – «غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ» دو غلام جو بھائی تھے – «فَبِعْتُهُمَا» تو میں نے انہیں بیچ دیا – «فَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا» اور ان کے درمیان جدائی ڈال دی – «فَذَكَرْتُ ذَلِكَ» پھر میں نے یہ ذکر کیا – «لِلنَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «أَدْرِكْهُمَا» ان دونوں کو پکڑو – «فَارْتَجِعْهُمَا» اور انہیں واپس لو – «وَلَا تَبِعْهُمَا» اور انہیں نہ بیچو – «إِلَّا جَمِيعًا» مگر اکٹھے۔ – «رَوَاهُ أَحْمَدُ» اسے احمد نے روایت کیا – «وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ» اور اس کے راوی ثقہ ہیں – «وَقَدْ صَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا ہے – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ – «وَابْنُ الْجَارُودِ» اور ابن الجارود – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم – «وَالطَّبَرَانِيُّ» اور طبرانی – «وَابْنُ الْقَطَّانِ» اور ابن القطان نے۔
اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو غلام بیچنے کا حکم دیا جو آپس میں بھائی تھے، میں نے انہیں (الگ الگ) بیچ کر ان میں جدائی ڈال دی، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”جاؤ ان دونوں کو واپس لو، اور انہیں اکٹھے ہی بیچو۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں، اور ابن خزیمہ، ابن الجارود، ابن حبان، حاکم، طبرانی اور ابن القطان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 678]
اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو غلام بیچنے کا حکم دیا جو آپس میں بھائی تھے، میں نے انہیں (الگ الگ) بیچ کر ان میں جدائی ڈال دی، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”جاؤ ان دونوں کو واپس لو، اور انہیں اکٹھے ہی بیچو۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں، اور ابن خزیمہ، ابن الجارود، ابن حبان، حاکم، طبرانی اور ابن القطان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 678]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، البيوع، باب ما جاء في كراهية الفرق بين الأخوين، حديث:1284، وابن ماجه، التجارات، حديث:2249، وأحمد:1 /97، 126، والحاكم:2 /55.* وقال أبوداود، حديث"2696 "ميمون لم يدرك عليًا".»
الحكم على الحديث:
ضعيف
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1284
| ما فعل غلامك فأخبرته فقال رده رده |
سنن ابن ماجه |
2249
| ما فعل الغلامان قلت بعت أحدهما قال رده |
بلوغ المرام |
678
| أدركهما فارتجعهما ، ولا تبعهما إلا جميعا |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 678 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 678
تخریج:
«أخرجه الترمذي، البيوع، باب ما جاء في كراهية الفرق بين الأخوين، حديث:1284، وابن ماجه، التجارات، حديث:2249، وأحمد:1 /97، 126، والحاكم:2 /55.* وقال أبوداود، حديث"2696 "ميمون لم يدرك عليًا".» تشریح:
1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔
مسند احمد کے محققین نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے‘ لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۲ /۱۵۵) 2.سابقہ حدیث ماں اور بچے میں جدائی کی حرمت پر دلالت کرتی ہے‘ خواہ وہ علیحدگی بیع کے ذریعے سے ہو یا ہبہ کی صورت میں یا دھوکے بازی سے الگ کرنے وغیرہ کی شکل میں۔
3. والدہ کے لفظ میں والد بھی شامل ہے‘ یعنی ماں سے جدا کیا جائے نہ باپ سے۔
اور یہ حدیث بھائیوں کے درمیان تفریق و جدائی کی حرمت پر دلالت کرتی ہے اور قیاس کے ذریعے سے ان کے ساتھ دوسرے ذوی الارحام کو بھی ملا لیا گیا ہے‘ مگر امام شوکانی رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ ذوی الارحام کو اس میں شامل کرنا محل نظر ہے کیونکہ ان کی جدائی سے وہ مشقت و پریشانی نہیں ہوتی جو ماں اور بچے کے مابین یا بھائی بھائی کے درمیان جدائی سے حاصل ہوتی ہے‘ لہٰذا دونوں میں واضح فرق کی وجہ سے ایک کو دوسرے کے ساتھ نہ ملایا جائے اور صرف نص پر توقف کیا جائے۔
4. یہ بات بھی معلوم رہے کہ تفریق کی حرمت چھوٹے بچے کے ساتھ مخصوص ہے۔
بڑے کی جدائی کب جائز ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔
باعتبار دلیل‘ راجح یہ ہے کہ جب لڑکا اور لڑکی بالغ ہوجائیں‘ اس وقت تفریق حرام نہیں۔
«أخرجه الترمذي، البيوع، باب ما جاء في كراهية الفرق بين الأخوين، حديث:1284، وابن ماجه، التجارات، حديث:2249، وأحمد:1 /97، 126، والحاكم:2 /55.* وقال أبوداود، حديث"2696 "ميمون لم يدرك عليًا".»
1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔
مسند احمد کے محققین نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے‘ لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۲ /۱۵۵) 2.سابقہ حدیث ماں اور بچے میں جدائی کی حرمت پر دلالت کرتی ہے‘ خواہ وہ علیحدگی بیع کے ذریعے سے ہو یا ہبہ کی صورت میں یا دھوکے بازی سے الگ کرنے وغیرہ کی شکل میں۔
3. والدہ کے لفظ میں والد بھی شامل ہے‘ یعنی ماں سے جدا کیا جائے نہ باپ سے۔
اور یہ حدیث بھائیوں کے درمیان تفریق و جدائی کی حرمت پر دلالت کرتی ہے اور قیاس کے ذریعے سے ان کے ساتھ دوسرے ذوی الارحام کو بھی ملا لیا گیا ہے‘ مگر امام شوکانی رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ ذوی الارحام کو اس میں شامل کرنا محل نظر ہے کیونکہ ان کی جدائی سے وہ مشقت و پریشانی نہیں ہوتی جو ماں اور بچے کے مابین یا بھائی بھائی کے درمیان جدائی سے حاصل ہوتی ہے‘ لہٰذا دونوں میں واضح فرق کی وجہ سے ایک کو دوسرے کے ساتھ نہ ملایا جائے اور صرف نص پر توقف کیا جائے۔
4. یہ بات بھی معلوم رہے کہ تفریق کی حرمت چھوٹے بچے کے ساتھ مخصوص ہے۔
بڑے کی جدائی کب جائز ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔
باعتبار دلیل‘ راجح یہ ہے کہ جب لڑکا اور لڑکی بالغ ہوجائیں‘ اس وقت تفریق حرام نہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 678]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1284
غلاموں کی بیع میں دو بھائیوں یا ماں اور اس کے بچے کے درمیان تفریق کی حرام ہے۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام دیئے جو آپس میں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”علی! تمہارا غلام کیا ہوا؟“، میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے ایک کو بیچ دیا ہے) تو آپ نے فرمایا: ”اسے واپس لوٹا لو، اسے واپس لوٹا لو۔“ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1284]
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام دیئے جو آپس میں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”علی! تمہارا غلام کیا ہوا؟“، میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے ایک کو بیچ دیا ہے) تو آپ نے فرمایا: ”اسے واپس لوٹا لو، اسے واپس لوٹا لو۔“ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1284]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(میمون کی ملاقات علی رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے،
لیکن پچھلی حدیث اور دیگر شواہد سے یہ مسئلہ ثابت ہے)
نوٹ:
(میمون کی ملاقات علی رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے،
لیکن پچھلی حدیث اور دیگر شواہد سے یہ مسئلہ ثابت ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1284]
Bulughul Maram Hadith 678 in Urdu