🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب الربا
سود کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 703
وعن فضالة بن عبيد رضي الله عنه قال: اشتريت يوم خيبر قلادة باثني عشر دينارا فيها ذهب وخرز ففصلتها فوجدت فيها أكثر من اثني عشر دينارا فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏لا تباع حتى تفصل» .‏‏‏‏رواه مسلم.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ” میں نے خیبر کے روز ایک ہار بارہ دینار میں خریدا۔ اس میں سونا اور پتھر کے نگینے تھے۔ میں نے ان کو الگ کر دیا تو میں نے اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا پایا۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تک ان کو الگ الگ نہ کر لیا جائے، فروخت نہ کیا جائے۔ “ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 703]
«وَعَنْ» اور سے – «فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ» فضالہ بن عبید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «اشْتَرَيْتُ» میں نے خریدا – «يَوْمَ خَيْبَرَ» خیبر کے دن – «قِلَادَةً» ایک ہار – «بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا» بارہ دینار میں – «فِيهَا» اس میں – «ذَهَبٌ» سونا – «وَخَرَزٌ» اور نگینے تھے – «فَفَصَّلْتُهَا» تو میں نے اسے الگ الگ کیا – «فَوَجَدْتُ فِيهَا» تو میں نے اس میں پایا – «أَكْثَرَ مِنِ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا» بارہ دینار سے زیادہ (سونا) – «فَذَكَرْتُ ذَلِكَ» تو میں نے اس کا ذکر کیا – «لِلنَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «لَا تُبَاعُ» اسے نہ بیچا جائے – «حَتَّى تُفَصَّلَ» یہاں تک کہ (سونا اور نگینے) الگ کر دیے جائیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جس میں سونا اور نگینے تھے، میں نے انہیں الگ الگ کیا تو اس میں بارہ دینار سے زیادہ (کا سونا) پایا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے (سونے اور نگینوں کو) الگ الگ کیے بغیر نہ بیچا جائے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 703]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب بيع القلادة فيها خرز وذهب، حديث:1591.»

الحكم على الحديث:
صحيح


بلوغ المرام کی حدیث نمبر 703 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 703
تخریج:
«أخرجه مسلم، المساقاة، باب بيع القلادة فيها خرز وذهب، حديث:1591.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی چیز میں سونے کی بنی ہوئی چیز کا جڑاؤ ہو تو اسے الگ کیے بغیر سونے کے عوض فروخت کرنا جائز نہیں کیونکہ جب تک دونوں کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا‘ صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا کہ جس کے عوض اسے فروخت کیا جا رہا ہے وہ اس کے مساوی ہے یا نہیں؟ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ اور اکثر علماء کی یہی رائے ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 703]

Bulughul Maram Hadith 703 in Urdu