بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سود کا بیان
حدیث نمبر: 702
وعن معمر بن عبد الله رضي الله عنه قال: إني كنت أسمع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «الطعام بالطعام مثلا بمثل» وكان طعامنا يومئذ الشعير. رواه مسلم.
سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کرتا تھا کہ ” طعام (اناج) طعام کے بدلے ایک ہی قسم کا ہو۔ ان دنوں ہمارا طعام (اناج) جو ہوتے تھے۔ “ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 702]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب بيع الطعام مثلاً بمثل، حديث:1592.»
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 702 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 702
تخریج:
«أخرجه مسلم، المساقاة، باب بيع الطعام مثلاً بمثل، حديث:1592.» تشریح:
اس حدیث کی رو سے طعام (اناج) کو اگر طعام کے عوض فروخت کرنا مقصود ہو تو اس میں برابری ضروری ہے‘ کمی بیشی ممنوع ہے۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ گندم اور جَو دو الگ الگ جنس ہیں‘ ایک نہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بھی یہی رائے ہے‘ اس لیے جَو اور گندم کے تبادلے میں برابری ضروری نہیں۔
مگر امام مالک رحمہ اللہ دونوں کو ایک جنس قرار دیتے ہیں اور ان میں برابری لازم سمجھتے ہیں۔
«أخرجه مسلم، المساقاة، باب بيع الطعام مثلاً بمثل، حديث:1592.»
اس حدیث کی رو سے طعام (اناج) کو اگر طعام کے عوض فروخت کرنا مقصود ہو تو اس میں برابری ضروری ہے‘ کمی بیشی ممنوع ہے۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ گندم اور جَو دو الگ الگ جنس ہیں‘ ایک نہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بھی یہی رائے ہے‘ اس لیے جَو اور گندم کے تبادلے میں برابری ضروری نہیں۔
مگر امام مالک رحمہ اللہ دونوں کو ایک جنس قرار دیتے ہیں اور ان میں برابری لازم سمجھتے ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 702]