🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب التفليس والحجر
مفلس قرار دینے اور تصرف روکنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 730
وعن ابن كعب بن مالك عن أبيه رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حجر على معاذ ماله وباعه في دين كان عليه. رواه الدارقطني وصححه الحاكم وأخرجه أبو داود مرسلا ورجح إرساله.
سیدنا ابن کعب بن مالک اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو ان کے مال میں تصرف سے روک دیا تھا اور اس کا مال اس قرض کی رقم کے عوض میں فروخت کر دیا جو اس کے ذمہ تھی۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوداؤد نے اسے مرسل روایت کیا ہے اور اس کے مرسل ہونے کو قابل ترجیح ٹھہرایا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 730]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ» ابن کعب بن مالک – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حَجَرَ» پابندی لگا دی – «عَلَى مُعَاذٍ» معاذ پر – «مَالَهُ» ان کے مال میں – «وَبَاعَهُ» اور اسے بیچ دیا – «فِي دَيْنٍ» ایک قرض (کی ادائیگی) میں – «كَانَ عَلَيْهِ» جو ان پر تھا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَأَخْرَجَهُ» اور اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «مُرْسَلًا» مرسل – «وَرَجَّحَ» اور ترجیح دی – «إِرْسَالَهُ» اس کے مرسل ہونے کو۔
اور ابن کعب بن مالک اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پر ان کے مال میں (تصرف کی) پابندی لگا دی اور ان پر جو قرض تھا اس (کی ادائیگی) میں ان کا مال بیچ دیا۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا اور حاکم نے صحیح کہا ہے، اور ابو داود نے اسے مرسل روایت کیا ہے اور اس کے مرسل ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 730]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:4 /231، والحاكم:2 /58.* الزهري عنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف


بلوغ المرام کی حدیث نمبر 730 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 730
تخریج:
«أخرجه الدارقطني:4 /231، والحاكم:2 /58.* الزهري عنعن.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«ابن کعب رحمہ اللہ» ‏‏‏‏ ابوالخطاب عبدالرحمن بن کعب بن مالک انصاری مدنی مراد ہیں۔
کبار تابعین میں سے تھے اور ثقہ تھے۔
کہا جاتا ہے کہ عہد نبوی میں پیدا ہوئے اور سلیمان بن عبدالملک کے عہد خلافت میں وفات پائی۔
«‏‏‏‏حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ کعب بن مالک بن ابی کعب۔
انصار کے قبیلۂسلم سے تھے۔
مدینہ کے باشندے اور شاعر تھے۔
ان شعراء میں سے ایک تھے جنھیں شعرائے نبوی کے معزز و مکرم خطاب سے نوازا گیا ہے۔
بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک تھے۔
بدر و تبوک کے سوا باقی تمام غزوات میں شریک رہے۔
یہ بزرگ ان تین معزز بزرگ ہستیوں میں سے ایک تھے جو غزوئہ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ گئے تھے اور ان کی توبہ دربار الٰہی میں قبولیت کے شرف سے مشرف ہوئی تھی۔
ایک قول کے مطابق ۵۰ہجری میں اور ایک قول کے مطابق ۵۱ ہجری میں‘ ستتر (۷۷) برس کی عمر میں وفات پائی۔
اس وقت یہ بینائی سے محروم ہو چکے تھے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 730]

Bulughul Maram Hadith 730 in Urdu