بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب الغصب
غصب کا بیان
حدیث نمبر: 756
وعن أنس رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان عند بعض نسائه فأرسلت إحدى أمهات المؤمنين مع خادم لها بقصعة فيها طعام فضربت بيدها فكسرت القصعة فضمها وجعل فيها الطعام وقال: «كلوا» ودفع القصعة الصحيحة للرسول وحبس المكسورة. رواه البخاري والترمذي وسمى الضاربة عائشة وزاد: فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «طعام بطعام وإناء بإناء» . وصححه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کے ہاں تشریف فرما تھے۔ کسی دوسری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے اپنے خادم کے ذریعہ ایک پیالہ بھیجا جس میں کچھ کھانا تھا تو اس بیوی نے اپنا ہاتھ مارا کہ وہ پیالہ ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالہ کو جوڑ کر اس میں کھانا ڈال دیا اور فرمایا کہ ”کھاؤ اور لانے والے کے ہاتھ سالم پیالہ بھیج دیا اور ٹوٹا ہوا اپنے پاس رکھ لیا۔“ (بخاری و ترمذی) ہاتھ مار کر پیالہ توڑنے والی کا نام عائشہ رضی اللہ عنہا لیا گیا ہے۔ اور ترمذی نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کھانے کے بدلہ میں کھانا اور برتن کے بدلہ میں برتن“ اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 756]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ» تھے – «عِنْدَ» پاس – «بَعْضِ نِسَائِهِ» اپنی بعض بیویوں میں سے ایک کے – «فَأَرْسَلَتْ» تو بھیجا – «إِحْدَى» ایک نے – «أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ» امہات المومنین میں سے – «مَعَ خَادِمٍ لَهَا» اپنے ایک خادم کے ساتھ – «بِقَصْعَةٍ» ایک پیالہ – «فِيهَا» جس میں – «طَعَامٌ» کھانا تھا – «فَضَرَبَتْ» تو (اُس بیوی نے) مارا – «بِيَدِهَا» اپنے ہاتھ سے – «فَكَسَرَتِ» اور توڑ دیا – «الْقَصْعَةَ» پیالہ – «فَضَمَّهَا» تو آپ نے اسے جوڑا – «وَجَعَلَ» اور رکھا – «فِيهَا» اس میں – «الطَّعَامَ» کھانا – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «كُلُوا» کھاؤ – «وَدَفَعَ» اور دے دیا – «الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ» صحیح سالم پیالہ – «لِلرَّسُولِ» قاصد کو – «وَحَبَسَ» اور روک لیا – «الْمَكْسُورَةَ» ٹوٹا ہوا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَسَمَّى» اور (ترمذی نے) نام لیا – «الضَّارِبَةَ» مارنے والی کا – «عَائِشَةَ» عائشہ – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا: – «فَقَالَ» تو فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «طَعَامٌ بِطَعَامٍ» کھانا کھانے کے بدلے – «وَإِنَاءٌ بِإِنَاءٍ» اور برتن برتن کے بدلے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک زوجہ کے پاس تھے کہ امہات المومنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھیجا جس میں کھانا تھا، تو (جس زوجہ کے گھر آپ تھے) انہوں نے اپنا ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا، آپ نے اسے جوڑا، اس میں کھانا رکھا اور فرمایا: ”کھاؤ۔“ اور صحیح سالم پیالہ قاصد کو دے دیا اور ٹوٹا ہوا روک لیا۔ اسے بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے، ترمذی نے مارنے والی کا نام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتایا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے: تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے کے بدلے کھانا اور برتن کے بدلے برتن۔“ اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 756]
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک زوجہ کے پاس تھے کہ امہات المومنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھیجا جس میں کھانا تھا، تو (جس زوجہ کے گھر آپ تھے) انہوں نے اپنا ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا، آپ نے اسے جوڑا، اس میں کھانا رکھا اور فرمایا: ”کھاؤ۔“ اور صحیح سالم پیالہ قاصد کو دے دیا اور ٹوٹا ہوا روک لیا۔ اسے بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے، ترمذی نے مارنے والی کا نام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتایا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے: تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے کے بدلے کھانا اور برتن کے بدلے برتن۔“ اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 756]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المظالم، باب إذا كسر قصعة أو شيئًا لغيره، حديث:2481، والترمذي، الأحكام، حديث:1359.»
الحكم على الحديث:
صحيح
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2481
| كلوا وحبس الرسول والقصعة حتى فرغوا فدفع القصعة الصحيحة وحبس المكسورة |
صحيح البخاري |
5225
| غارت أمكم ثم حبس الخادم حتى أتي بصحفة من عند التي هو في بيتها فدفع الصحفة الصحيحة إلى التي كسرت صحفتها وأمسك المكسورة في بيت التي كسرت |
سنن أبي داود |
3567
| غارت أمكم |
سنن النسائى الصغرى |
3407
| غارت أمكم كلوا فأكلوا فأمسك حتى جاءت بقصعتها التي في بيتها فدفع القصعة الصحيحة إلى الرسول وترك المكسورة في بيت التي كسرتها |
سنن ابن ماجه |
2334
| غارت أمكم كلوا فأكلوا حتى جاءت بقصعتها التي في بيتها فدفع القصعة الصحيحة إلى الرسول وترك المكسورة في بيت التي كسرتها |
المعجم الصغير للطبراني |
634
| كلوا باسم الله غارت أمكم ثم أعطى صحفتها أم سلمة وقال طعام مكان طعام وإناء مكان إناء |
بلوغ المرام |
756
| كلوا ودفع القصعة الصحيحة للرسول وحبس المكسورة |
Bulughul Maram Hadith 756 in Urdu