بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب الغصب
غصب کا بیان
حدیث نمبر: 759
وعن أبي بكرة رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال في خطبته يوم النحر بمنى: «إن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا» . متفق عليه.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے روز منٰی میں اپنے خطبہ کے دوران فرمایا کہ ” بیشک تمہارے خون اور اموال اور تمہاری آبروئیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا آج کا یہ دن حرمت والا ہے جو تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں واقع ہوا ہے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 759]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي بَكْرَةَ» ابو بکرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا – «فِي خُطْبَتِهِ» اپنے خطبے میں – «يَوْمَ النَّحْرِ» قربانی کے دن – «بِمِنًى» منیٰ میں: – «إِنَّ» بے شک – «دِمَاءَكُمْ» تمہارے خون – «وَأَمْوَالَكُمْ» اور تمہارے مال – «وَأَعْرَاضَكُمْ» اور تمہاری عزتیں – «عَلَيْكُمْ» تم پر – «حَرَامٌ» حرام ہیں – «كَحُرْمَةِ» حرمت کی طرح – «يَوْمِكُمْ هَذَا» تمہارے اس دن کی – «فِي شَهْرِكُمْ هَذَا» تمہارے اس مہینے میں – «فِي بَلَدِكُمْ هَذَا» تمہارے اس شہر میں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن منیٰ میں اپنے خطبے میں فرمایا: ”بے شک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 759]
اور سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن منیٰ میں اپنے خطبے میں فرمایا: ”بے شک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 759]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب الخطبة أيام مني، حديث:1739، ومسلم، القسامة والمحاربين، باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض والأموال، حديث:1679.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 759 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 759
تخریج:
«أخرجه البخاري، الحج، باب الخطبة أيام مني، حديث:1739، ومسلم، القسامة والمحاربين، باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض والأموال، حديث:1679.» تشریح:
مصنف رحمہ اللہ اس حدیث کو اگر بَابُ الْغَصْبِ کے شروع میں بیان کرتے تو بہت خوب ہوتا۔
بہرحال اس مقام پر اسے بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ مسلمان کا مال غصب کرنا حرام ہے اور اس کی حرمت پر سب متفق ہیں۔
«أخرجه البخاري، الحج، باب الخطبة أيام مني، حديث:1739، ومسلم، القسامة والمحاربين، باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض والأموال، حديث:1679.»
مصنف رحمہ اللہ اس حدیث کو اگر بَابُ الْغَصْبِ کے شروع میں بیان کرتے تو بہت خوب ہوتا۔
بہرحال اس مقام پر اسے بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ مسلمان کا مال غصب کرنا حرام ہے اور اس کی حرمت پر سب متفق ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 759]
Bulughul Maram Hadith 759 in Urdu