🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب الشفعة
شفعہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 760
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالشفعة في كل ما لم يقسم فإذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة. متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ للبخاري. وفي رواية مسلم: الشفعة في كل شرك: أرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أو ربع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أو حائط،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا يصلح أن يبيع حتى يعرض على شريكه وفي رواية الطحاوي: قضى النبي صلى الله عليه وآله وسلم بالشفعة في كل شيء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ورجاله ثقات.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعہ کا فیصلہ دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو مگر جب حدود بندی ہو جائے اور راستے الگ ہو جائیں تو پھر شفعہ نہیں۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ شفعہ ہر مشترک چیز میں ہے (مثلا) زمین میں، مکان میں، باغ میں۔ اپنے حصہ دار (شریک) کے روبرو پیش کئے بغیر کسی کیلئے چیز فروخت کرنا درست نہیں اور طحاوی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ رکھا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 760]
«عَنْ» سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَضَى» فیصلہ فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِالشُّفْعَةِ» شفعہ کا – «فِي كُلِّ» ہر اس چیز میں – «مَا لَمْ يُقْسَمْ» جو تقسیم نہ کی گئی ہو – «فَإِذَا» پس جب – «وَقَعَتِ» واقع ہو جائیں (مقرر ہو جائیں) – «الْحُدُودُ» حدیں – «وَصُرِّفَتِ» اور پھیر دیے جائیں (الگ کر دیے جائیں) – «الطُّرُقُ» راستے – «فَلَا شُفْعَةَ» تو کوئی شفعہ نہیں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔ – «وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «الشُّفْعَةُ» شفعہ ہے – «فِي كُلِّ شِرْكٍ» ہر مشترکہ چیز میں – «أَرْضٍ» زمین – «أَوْ رَبْعٍ» یا گھر – «أَوْ حَائِطٍ» یا باغ – «لَا يَصْلُحُ» درست نہیں – «أَنْ يَبِيعَ» کہ وہ بیچے – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يَعْرِضَ» پیش کرے – «عَلَى شَرِيكِهِ» اپنے شریک پر۔ – «وَفِي رِوَايَةِ الطَّحَاوِيِّ» اور طحاوی کی روایت میں ہے: – «قَضَى» فیصلہ فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِالشُّفْعَةِ» شفعہ کا – «فِي كُلِّ شَيْءٍ» ہر چیز میں – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر اس (مشترکہ) چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا جو تقسیم نہ ہوئی ہو، پھر جب حدیں مقرر ہو جائیں اور راستے الگ الگ کر دیے جائیں تو کوئی شفعہ نہیں۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”شفعہ ہر مشترکہ چیز میں ہے: زمین ہو یا گھر یا باغ، (شریک کے لیے) درست نہیں کہ اسے بیچے یہاں تک کہ اپنے شریک پر پیش کرے۔“ اور طحاوی کی روایت میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا۔ اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 760]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الشفعة، باب الشفعة فيما لم يقسم، حديث:2257، ومسلم، المساقاة، باب الشفعة، حديث:1608، والطحاوي في معاني الأثار:4 /126.»

الحكم على الحديث:
صحيح


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2214
إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة
صحيح البخاري
2257
إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة
جامع الترمذي
1370
إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة
بلوغ المرام
760
فإذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة
Bulughul Maram Hadith 760 in Urdu