🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
عدت، سوگ اور استبراء رحم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 962
وعن أبي سعيد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال في سبايا أوطاس: «‏‏‏‏لا توطأ حامل حتى تضع ولا غير ذات حمل حتى تحيض حيضة» .‏‏‏‏ أخرجه أبو داود وصححه الحاكم وله شاهد عن ابن عباس رضي الله عنهما في الدارقطني.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا حاملہ عورت جب تک وضع حمل نہ کر لے، اس سے جماع نہ کیا جائے نیز غیر حاملہ سے بھی اس وقت تک وطی نہ کی جائے جب تک اسے ایک ماہواری نہ آ جائے۔ اس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دارقطنی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اس کا شاہد مروی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 962]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في وطء السبايا، حديث:2157، والحاكم:2 /195 وصححه علي شرط مسلم، وحديث ابن عباس: أخرجه الدارقطني:3 /257 سنده ضعيف.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2157
لا توطأ حامل حتى تضع ولا غير ذات حمل حتى تحيض حيضة
بلوغ المرام
962
لا توطأ حامل حتى تضع ولا غير ذات حمل حتى تحيض حيضة
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 962 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 962
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في وطء السبايا، حديث:2157، والحاكم:2 /195 وصححه علي شرط مسلم، وحديث ابن عباس: أخرجه الدارقطني:3 /257 سنده ضعيف.»
تشریح:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے‘ نیز ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنن ابوداود (اردو‘ طبع دارالسلام) میں سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ طیالسی کی حدیث اس سے کفایت کرتی ہے۔
ان کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
علاوہ ازیں دیگر محققین کی بحث سے بھی تصحیح حدیث والی رائے ہی أقرب إلی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (إرواء الغلیل:۱ /۲۰۰. ۲۰۲‘ رقم:۱۸۷‘ وصحیح سنن أبي داود (مفصل) للألباني‘ رقم:۱۸۷۳)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 962]