🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
فجر سے سورج نکلنے تک اور عصر سے غروب آفتاب تک ذکر الہیٰ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا وَبِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لأَنْ أَصْبِرَ مَعَ قَوْمٍ يَدْعُونَ اللَّهَ، وَيَذْكُرُونَهُ مِنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَرْبَعٍ مُحَرَّرِينَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، أَوْ مِنَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ مِثْلَهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا، جو نماز فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک اللہ سے دعا کرتے اور اس کا ذکر کرتے ہیں، اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے، یا عصر سے غروب آفتاب تک کہ میں ان کے مثل آزاد کروں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب العلم/حدیث: 7]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب العلم، باب فى القصص، رقم: 3667۔ قال الشيخ الالباني حسن»
 
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
586
من صلى الغداة في جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس ثم صلى ركعتين كانت له كأجر حجة وعمرة قال قال رسول الله تامة تامة تامة
سنن أبي داود
3667
لأن أقعد مع قوم يذكرون الله من صلاة الغداة حتى تطلع الشمس أحب إلي من أن أعتق أربعة من ولد إسماعيل ولأن أقعد مع قوم يذكرون الله من صلاة العصر إلى أن تغرب الشمس أحب إلي من أن أعتق أربعة
مسند اسحاق بن راهويه
7
من صلاة الغداة إلى طلوع الشمس احب إلي من اربع محررين من ولد إسماعيل، او من العصر حتى تغرب الشمس من ان اعتق مثلهم
مسند اسحاق بن راہویہ کی حدیث نمبر 7 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 7
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ فجر سے لے کر سورج نکلنے تک اور نماز عصر سے لے کر غروب آفتاب تک کا وقت ذکر الٰہی کے لیے فائدہ مند ہے۔
اور قرآن مجید میں اس دوران بہت زیادہ ذکر کی ترغیب آئی ہے۔
جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّـهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ٭ وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» [33-الأحزاب:41]
مسلمانوں اللہ کا بہت زیادہ ذکر کیا کرو اور صبح و شام اس کی پاکیزگی بیان کیا کرو۔
[مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 7]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3667
وعظ و نصیحت اور قصہ گوئی کے حکم کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3667]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم اللہ کا ذکر کرنے کی توفیق ملنا بہت بڑی نیکی اورنعمت ہے۔
اور قرآن وسنت کا وعظ کہنا سننا بھی اللہ کے ذکر کے معنی میں ہے۔
نیز فجرصادق سے سورج نکلنے تک اور اسی طرح عصرسے غروب تک کا وقت تقرب الٰہی کا بہترین قیمتی وقت ہوتا ہے۔
فرمایا: (فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ)
تاہم بعض حضرات نے اس کی تحسین بھی کی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3667]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 586
نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں، تو اسے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملے گا۔‏‏‏‏ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا، پورا، پورا، یعنی حج و عمرے کا پورا ثواب ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 586]
اردو حاشہ:
1؎:
آج امت محمدیہ على صاحبها الصلاة والسلام کے تمام آئمہ اور اس کے سب مقتدی اس اجرعظیم اور اوّل النہار کی برکتوں سے کس قدر محروم ہیں،
ذرا اس حدیث سے اندازہ لگائیے۔
إلاما شاءالله اللهم اجعلنا منهم.
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 586]

Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 7 in Urdu