Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. باب المشورة
مشورہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ‏:‏ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ‏:‏ ”وَشَاوِرْهُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ‏.‏“
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن مجید کی آیت: « ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ » [آل عمران: 159] کو «وَشَاوِرْهُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ» پڑھا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب المشورة/حدیث: 257]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه سعيد بن منصور فى سننه فى كتاب التفسير: 535 و ابن أبى حاتم فى تفسيره: 802/3 و ابن أبى داؤد فى المصاحف: 192/1»
قال الشيخ الألباني: صحيح

الادب المفرد کی حدیث نمبر 257 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 257
فوائد ومسائل:
(۱)اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنے معاملات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کریں۔ اس سے مقصود صحابہ کرام کی دل داری اور بعد والوں کے لیے اس سنت کا اجراء ہے ورنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہ تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی فرماتا تھا۔
(۲) یہ مشورہ مباح اور جائز امور میں ہونا چاہیے تاکہ آسان راہ اختیار کی جاسکے۔ جن امور میں شریعت کے واضح احکام موجود ہوں ان میں مشورے کی قطعاً ضرورت نہیں جیسا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مانعین زکاۃ کے خلاف جہاد کے بارے میں کسی کے مشورے کو خاطر میں نہ لائے۔
(۳) ہر معاملے میں مشورہ ضروری نہیں جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض امور میں مشورہ کرنے کا حکم دیا۔
(۴) مشورہ لینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب اس پر عمل کرنا ضروری ہے بلکہ حاکم وقت یا کوئی بھی آدمی مشورہ کرنے کے بعد جو مناسب سمجھے کر گزرے۔ اگر کسی کے مشورے پر عمل نہ کیا جائے تو اسے بھی برا محسوس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہر انسان کے مشورے پر عمل کیا جائے۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 257]