سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
106. باب فى عرق الجنب والحائض:
جنبی اور حائضہ کے پسینے کا بیان
حدیث نمبر: 1067
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ "لَمْ يَكُنْ يَرَى بَأْسًا بِعَرَقِ الْحَائِضِ وَالْجُنُبِ".
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حائضہ اور جنبی کے پسینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1071] »
اس روایت میں ہشیم مدلس ہیں اور انہوں نے عنعنہ سے روایت کیا ہے، لیکن عبدالرزاق نے [مصنف 1430] میں بسند صحیح ذکر کیا ہے۔
اس روایت میں ہشیم مدلس ہیں اور انہوں نے عنعنہ سے روایت کیا ہے، لیکن عبدالرزاق نے [مصنف 1430] میں بسند صحیح ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1058 سے 1067)
ان تمام روایات سے یہ ثابت ہوا کہ حیض اور جنابت کی حالت میں کپڑوں میں اگر پسینہ لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، لہٰذا ان کپڑوں میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، نہ انہیں دھونے کی ضرورت ہے، ہاں منی یا اور کوئی نجاست کپڑے پر لگ جائے تو اس جگہ یا کپڑے کو دھو لینا چاہے۔
واللہ علم۔
ان تمام روایات سے یہ ثابت ہوا کہ حیض اور جنابت کی حالت میں کپڑوں میں اگر پسینہ لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، لہٰذا ان کپڑوں میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، نہ انہیں دھونے کی ضرورت ہے، ہاں منی یا اور کوئی نجاست کپڑے پر لگ جائے تو اس جگہ یا کپڑے کو دھو لینا چاہے۔
واللہ علم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← عكرمة مولى ابن عباس | ثقة حافظ | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا يحيى بن يحيى النيسابوري ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة ثبت إمام |
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي