🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

106. باب في عَرَقِ الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ:
جنبی اور حائضہ کے پسینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1058
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ الْجُنُبِ يَعْرَقُ فِي الثَّوْبِ ثُمَّ يَمْسَحُهُ بِهِ، قَالَ: "لَا بَأْسَ بِهِ".
عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے کہا: میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا: جنبی کو پسینہ آئے اور وہ کپڑے سے پسینہ پونچھ لے، کہا: کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1062] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 191/1] ۔ نیز عبدالوہاب: ابن عبدالمجید ہیں۔
وضاحت: (تشریح حدیث 1057)
اس روایت سے معلوم ہوا وہ کپڑے جو حالتِ جنابت میں پہن لئے ان کو استعمال کرنے اور ان میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1059
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ "لَا يَرَى بِعَرَقِ الْجُنُبِ فِي الثَّوْبِ بَأْسًا".
عبدالله بن عثمان نے کہا: سعید بن جبیر رحمہ اللہ جنبی کے کپڑے میں پسینہ لگ جانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1059]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1063] »
اس قول کی سند حسبِ سابق صحیح ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1060
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ كَانَ "لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا".
امام شعبی رحمہ اللہ بھی اس میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1064] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 191/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1061
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: مَا كُلُّ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَجِدُونَ ثَوْبَيْنِ، فَقَالَ: "إِذَا اغْتَسَلْتَ أَلَسْتَ تَلْبَسُهُ فَذَاكَ بِذَاكَ".
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب ہی اصحاب دو کپڑے یا چادر نہیں رکھتے تھے، انہوں نے کہا: جب دھو لو گے تو کیا تم اس کو پہنو گے نہیں، یہ بالکل اسی طرح ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1061]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1065] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1062
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سُئِلَتْ عَنْ الرَّجُلِ يُصِيبُ الْمَرْأَةَ، ثُمَّ يَلْبَسُ الثَّوْبَ فَيَعْرَقُ فِيهِ، "فَلَمْ تَرَ بِهِ بَأْسًا".
قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو عورت سے جماع کرے پھر کپڑا پہن لے، اور اس میں اسے پسینہ بھی آئے، تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1062]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1066] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 191/1] ، [مصنف عبدالرزاق 1431] و [بيهقي 409/2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1063
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "لَا بَأْسَ أَنْ يَعْرَقَ الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ فِي الثَّوْبِ يُصَلَّى فِيهِ".
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: جنبی یا حائضہ کو جس کپڑے میں پسینہ آئے اس میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1063]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فقد صرح ابن جريج بالتحديث عن عبد الرازق، [مكتبه الشامله نمبر: 1067] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن [مصنف ابن أبى شيبه 191/1] و [مصنف عبدالرزاق ميں 143/6] میں بسند صحیح موجود ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1064
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجُنُبِ يَعْرَقُ فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: "لَا يَضُرُّهُ، وَلَا يَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ".
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے جنبی کے بارے میں مروی ہے کہ اس کے کپڑے میں پسینہ لگ جائے، کہا: کوئی حرج نہیں، اور اس پر پانی چھڑکنے کی بھی ضرورت نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1064]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أبي حمزة وهو: ميمون الراعي الأعور، [مكتبه الشامله نمبر: 1068] »
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 191/1] ۔ نیز ابوحمزہ کا نام میمون الراعی الاعور ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1065
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْحَائِضِ إِذَا عَرِقَتْ فِي ثِيَابِهَا"فَإِنَّهُ يُجْزِئُهَا أَنْ تَنْضَحَهُ بِالْمَاءِ".
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مروی ہے: حائضہ کو کپڑے میں پسینہ آئے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارنا کافی ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1065]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1069] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ ہشام: الدستوائی ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1066
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ كَانَ "يَعْرَقُ فِي الثَّوْبِ وَهُوَ جُنُبٌ، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ".
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حالت جنابت میں کپڑے میں پسینہ آتا، پھر وہ اسی کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1070] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المؤطا 89] ، [ابن أبى شيبه 191/1] و [مصنف عبدالرزاق 1428]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1067
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ "لَمْ يَكُنْ يَرَى بَأْسًا بِعَرَقِ الْحَائِضِ وَالْجُنُبِ".
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حائضہ اور جنبی کے پسینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1071] »
اس روایت میں ہشیم مدلس ہیں اور انہوں نے عنعنہ سے روایت کیا ہے، لیکن عبدالرزاق نے [مصنف 1430] میں بسند صحیح ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1058 سے 1067)
ان تمام روایات سے یہ ثابت ہوا کہ حیض اور جنابت کی حالت میں کپڑوں میں اگر پسینہ لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، لہٰذا ان کپڑوں میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، نہ انہیں دھونے کی ضرورت ہے، ہاں منی یا اور کوئی نجاست کپڑے پر لگ جائے تو اس جگہ یا کپڑے کو دھو لینا چاہے۔
واللہ علم۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں