🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب التورع عن الجواب فيما ليس فيه كتاب ولا سنة:
ایسا فتوی دینے سے احتیاط برتنے کا بیان جس کے بارے میں قرآن و حدیث سے دلیل نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 111
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ ثَمَانِيًا، قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ؟، قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ، قَالَ: فَيُرِيدُونَ أَنْ يُبِينُوا مِنْكَ امْرَأَتَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةَ طَلْقَةٍ قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ؟، قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ، قَالَ: فَيُرِيدُونَ أَنْ يُبِينُوا مِنْكَ امْرَأَتَكَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "مَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ، فَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ الطَّلَاقَ وَمَنْ لَبَّسَ عَلَى نَفْسِهِ، وَكَّلْنَا بِهِ لَبْسَهُ وَاللَّهِ لَا تُلَبِّسُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ نَحْنُ، هُوَ كَمَا تَقُولُونَ".
علقمہ نے کہا ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے پچھلی شب اپنی بیوی کو آٹھ طلاق دے دیں، پوچھا ایک بار میں؟ کہا: ایک کلمہ میں۔ پوچھا وہ تم سے تمہاری بیوی جدا کرانا چاہتے ہیں، کہا: ہاں۔ راوی نے کہا پھر دوسرا آدمی آیا کہ اس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں داغ دی ہیں، پوچھا ایک بار میں؟ کہا: ہاں (یعنی یہ کہا میں نے سو طلاق دیں)۔ سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو لوگ طلاق بائنہ سمجھ کر تمہاری بیوی کو جدا کرانا چاہتے ہیں، عرض کیا جی ہاں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق (ایک ایک کر کے) طلاق دی تو اللہ تعالیٰ نے اسے بیان فرما دیا ہے، اور جس نے خلط ملط کیا ہم نے اسے اسی خلط کے حوالے کر دیا، واللہ گڑبڑ تم کرتے ہو اس کا بوجھ ہم اٹھائیں اب فیصلہ ویسا ہی ہے جیسا تم کر چکے ہو یعنی (طلاق بائن ہوگئی)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 111] »
اس اثر کی سند صحیح ہے اور معجم الكبير [9628] و سنن البيهقي [335/7] میں یہ روایت موجود ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 11343]
وضاحت: (تشریح حدیث 110)
یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے اصل «الطلاق مرتان» ہے، باری باری ایک ایک طلاق دینا، لیکن جب لوگوں نے نص قرآنی سے کھلواڑ شروع کر دی اور ان گنت طلاق دینے لگے تو انہوں نے کہا: اگر ایک ساتھ تین یا تین سے زیادہ طلاق دی گئی تو طلاق بائن ہو جائے گی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس طرح طلاقِ ثلاثہ کو رائج کیا تھا۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥علقمة بن قيس النخعي، أبو شبل
Newعلقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← علقمة بن قيس النخعي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥سعيد بن عامر الضبعي، أبو محمد
Newسعيد بن عامر الضبعي ← عبد الله بن عون المزني
ثقة