سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب الشيطان إذا سمع النداء فر:
شیطان جب اذان سنتا ہے تو بھاگ جاتا ہے
حدیث نمبر: 1238
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: "إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ، فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ، أَقْبَلَ، وَإِذَا ثُوِّبَ، أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ، أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ قَبْلَ ذَلِكَ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: ثُوِّبَ: يَعْنِي: أُقِيمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے، جب اقامت (تکبیر) ہوتی ہے تو بھاگ جاتا ہے اور جب اقامت ختم ہوتی ہے لوٹ آتا ہے تاکہ نمازی کے دل میں وسوسہ ڈالے، کہتا ہے فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو جو بات کہ اس کو اس سے قبل یاد نہ آئی تھی۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس حدیث میں «ثوُبَ» سے مراد: «أقيم»، یعنی اقامت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1238]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1240] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 608] ، [مسلم 389] ، [أبويعلی 5958] ، [ابن حبان 16، 1662]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 608] ، [مسلم 389] ، [أبويعلی 5958] ، [ابن حبان 16، 1662]
وضاحت: (تشریح حدیث 1237)
اس حدیث سے اذان کی فضیلت معلوم ہوئی، نیز یہ کہ اذان و اقامت سے شیطان بھاگ جاتا ہے اور اس کا کام نماز میں وسوسے ڈالنا ہے، اور اذان و اقامت سننے والے کو جو مؤذن کہے ویسے ہی کہنا چاہئے اور «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کے جواب میں «لا حول ولا قوة إلا باللّٰه» کہنا سنّت ہے۔
اس حدیث سے اذان کی فضیلت معلوم ہوئی، نیز یہ کہ اذان و اقامت سے شیطان بھاگ جاتا ہے اور اس کا کام نماز میں وسوسے ڈالنا ہے، اور اذان و اقامت سننے والے کو جو مؤذن کہے ویسے ہی کہنا چاہئے اور «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کے جواب میں «لا حول ولا قوة إلا باللّٰه» کہنا سنّت ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر يحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن وهب بن جرير الأزدي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | ثقة |
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي