علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
99. باب الصلاة فى الثوب الواحد:
ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1409
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص بھی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر اس میں سے کچھ نہ ہو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1409]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1411] »
یہ حدیث بھی صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 359] ، [مسلم 516] ، [أبوداؤد 626] ، [نسائي 768] ، [أبويعلی 2662] ، [ابن حبان 2303] ، [الحميدي 994 وغيرهم]
یہ حدیث بھی صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 359] ، [مسلم 516] ، [أبوداؤد 626] ، [نسائي 768] ، [أبويعلی 2662] ، [ابن حبان 2303] ، [الحميدي 994 وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1408)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ایک کپڑا ہو لیکن لمبا چوڑا ہو تو کندھے پر ڈال لے تاکہ کندھے ڈھک جائیں اور ستر پوشی بھی ہو جائے اور نماز پڑھ لے، اس کی نماز صحیح ہوگی۔
اور اگر کپڑا چھوٹا ہو، ستر پوشی نہ ہو سکے تو ازار باندھ لے لنگی کی طرح اور نماز پڑھ لے، اس کی نماز بھی درست ہو گی، یہ اس صورت میں ہے جب ایک کپڑا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں تنگ حالی تھی، سب کے پاس دو کپڑے بھی نہ ہوتے تھے۔
آج الله تعالیٰ نے سب کو وسعت دی ہے اس لئے نماز کپڑے پہن کر پڑھنی چاہیے۔
«﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ [الأعراف: 31] » ”اے بنی آدم! سجده گاه آتے ہوئے زینت اختیار کرو۔
“
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ایک کپڑا ہو لیکن لمبا چوڑا ہو تو کندھے پر ڈال لے تاکہ کندھے ڈھک جائیں اور ستر پوشی بھی ہو جائے اور نماز پڑھ لے، اس کی نماز صحیح ہوگی۔
اور اگر کپڑا چھوٹا ہو، ستر پوشی نہ ہو سکے تو ازار باندھ لے لنگی کی طرح اور نماز پڑھ لے، اس کی نماز بھی درست ہو گی، یہ اس صورت میں ہے جب ایک کپڑا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں تنگ حالی تھی، سب کے پاس دو کپڑے بھی نہ ہوتے تھے۔
آج الله تعالیٰ نے سب کو وسعت دی ہے اس لئے نماز کپڑے پہن کر پڑھنی چاہیے۔
«﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ [الأعراف: 31] » ”اے بنی آدم! سجده گاه آتے ہوئے زینت اختیار کرو۔
“
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت عالم | |
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج | إمام ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الله بن ذكوان القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله محمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري | ثقة | |
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد عبيد الله بن موسى العبسي ← محمد بن يوسف الفريابي | ثقة يتشيع |
Sunan Darmi Hadith 1409 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي