🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. باب لا يقطع الصلاة شيء:
نماز کسی کے گزرنے سے نہیں ٹوٹتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1453
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ يَعْنِي: عَلَى أَتَانٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَةَ، فَمَرَرْتُ عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ عَنْهَا وَتَرَكْتُهَا تَرْعَى، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اور فضل (ان کے بھائی) گدھی پر بیٹھ کر آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ یا عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے، میں صف کے درمیان سے گزرا، گدھی سے اترا اور اسے چرتے ہوئے چھوڑ دیا، اور صف میں جا کر مل گیا۔ (بخاری کی روایت میں ہے: مجھے اس پر کسی نے ٹوکا نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1453]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1455] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 76] ، [مسلم 504] ، [أبوداؤد 715] ، [ترمذي 337] ، [نسائي 751] ، [ابن ماجه 947] ، [أبويعلی 2382] ، [ابن حبان 2151] ، [الحميدي 481]
وضاحت: (تشریح حدیث 1452)
باب ہے کسی کے گذرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی، اور امام دارمی رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا حدیث ذکر کی ہے جس میں ہے کہ گدھی اور خود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ صف کے درمیان سے گذرے لیکن کسی نے ٹوکا نہیں، مطلب یہ ہوا کہ گدھے سامنے سے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
لیکن اس حدیث سے اس پر استدلال کہ کسی کے بھی سامنے سے گذرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی صحیح نہیں، کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنی گدھی کے ساتھ صف کے درمیان سے گزرے تھے اور امام کا سترہ مقتدی کا بھی سترہ ہوتا ہے۔
پچھلی حدیث میں یہ جو ذکر آیا کہ گدھا، کالا کتا اور عورت کے سامنے سے گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو اس سلسلے میں صاحب التحفہ مبارکپوری رحمۃ الله علیہ نے لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان تینوں مذکورہ بالا اجناس کے نمازی کے سامنے سے گذرنے سے نماز میں نقص آ جاتا ہے اس لئے کہ آدمی کا دل اس سے متاثر ہو جاتا ہے، نماز مطلقاً باطل یا فاسد ہو جائے ایسا نہیں ہے، جمہور علمائے سلف و خلف کا یہی فتویٰ ہے۔
واللہ اعلم۔
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت
Sunan Darmi Hadith 1453 in Urdu