الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
206. باب ما جاء فى الصلاة بعد الجمعة:
نماز جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1614
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ، فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی بھی جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے وہ چار رکعت نماز (سنت) پڑھے۔“ امام دارمی ابومحمد رحمہ اللہ نے فرمایا: میں جمعہ کے بعد دو رکعت یا چار رکعت (سنت) پڑھتا ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1614]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1616] »
اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث بھی صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 881] ، [أبوداؤد 1131] ، [ترمذي 523] ، [نسائي 1425] ، [ابن ماجه 1132] ، [ابن حبان 2477] ، [مسند الحميدي 1006]
اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث بھی صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 881] ، [أبوداؤد 1131] ، [ترمذي 523] ، [نسائي 1425] ، [ابن ماجه 1132] ، [ابن حبان 2477] ، [مسند الحميدي 1006]
وضاحت: (تشریح احادیث 1611 سے 1614)
یعنی قولِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کبھی چار اور فعل کے مطابق کبھی دو رکعت سنّت پڑھتا ہوں، بعض علماء نے کہا کہ گھر میں جمعہ کے بعد دو رکعت اور مسجد میں چار رکعت پڑھنا سنّت ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
یعنی قولِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کبھی چار اور فعل کے مطابق کبھی دو رکعت سنّت پڑھتا ہوں، بعض علماء نے کہا کہ گھر میں جمعہ کے بعد دو رکعت اور مسجد میں چار رکعت پڑھنا سنّت ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد سهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سهيل بن أبي صالح السمان | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله محمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري | ثقة |
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي