سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب لمن تحل له الصدقة:
صدقہ لینا کس کے لئے درست ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1678
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ سَأَلَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ أَوْ خُدُوشٌ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْغِنَى؟ قَالَ:"خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنْ الذَّهَبِ".
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غنی ہوتے ہوئے مانگے وہ قیامت کے دن چہرے پر زخموں کے نشان لئے ہوئے آئے گا“، عرض کیا گیا: مالداری کی حد کیا ہے؟ فرمایا: ”پچاس درہم یا اسی کے مساوی سونا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1678]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1680] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1626] ، [ترمذي 650] ، [نسائي 2591] ، [ابن ماجه 1840] ، [أبويعلی 5217، وغيرهم]
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1626] ، [ترمذي 650] ، [نسائي 2591] ، [ابن ماجه 1840] ، [أبويعلی 5217، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1677)
یعنی جس کے پاس 50 درہم یا اتنی ہی قیمت کا سونا ہو تو وہ غنی ہے اور اس کو مانگنا جائز نہیں۔
خموش، خدوش، کدوح سب کے معنی تقریباً ایک ہیں، بعض لوگوں نے کہا خموش: کھال چھلنا ناخون سے، خدوش: کھال چھلنا لکڑی سے، اور کدوح: کھال چھلنا دانتوں سے۔
یعنی جس کے پاس 50 درہم یا اتنی ہی قیمت کا سونا ہو تو وہ غنی ہے اور اس کو مانگنا جائز نہیں۔
خموش، خدوش، کدوح سب کے معنی تقریباً ایک ہیں، بعض لوگوں نے کہا خموش: کھال چھلنا ناخون سے، خدوش: کھال چھلنا لکڑی سے، اور کدوح: کھال چھلنا دانتوں سے۔
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود