سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب لمن تحل له الصدقة:
صدقہ لینا کس کے لئے درست ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1677
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يَعْنِي: قَوِيٍّ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ غنی (مالدار) کے لئے صدقہ لینا حلال ہے اور نہ طاقت ور مضبوط آدمی کے واسطے۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: «سوي» کے معنی قوی کے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1677]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح ريحان بن يزيد قال أبو حاتم في ((الجرح والتعديل)) 517/ 3 ((شيخ مجهول))، [مكتبه الشامله نمبر: 1679] »
اس روایت کی سند اور یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1634] ، [ترمذي 652] ، [الطيالسي 842] ، [أحمد 192/2] ، [الحاكم 407/1] ، [أبويعلی 3290] ، [ابن حبان 3290] ، [موارد الظمآن 806، وغيرهم]
اس روایت کی سند اور یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1634] ، [ترمذي 652] ، [الطيالسي 842] ، [أحمد 192/2] ، [الحاكم 407/1] ، [أبويعلی 3290] ، [ابن حبان 3290] ، [موارد الظمآن 806، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1676)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ غنی اپنے مال میں سے کھائے اور ہٹا کٹا محنت مزدوری کر کے کھائے اور دستِ سوال دراز نہ کرے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ غنی اپنے مال میں سے کھائے اور ہٹا کٹا محنت مزدوری کر کے کھائے اور دستِ سوال دراز نہ کرے۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 1677 in Urdu
ريحان بن يزيد العامري ← عبد الله بن عمرو السهمي