🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب العشر فيما سقت السماء وما سقي بالنضح:
زراعت میں عشر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1705
أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ:"بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ الثِّمَارِ مَا يُسْقَى بَعْلًا الْعُشْرَ، وَمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ، فَنِصْفَ الْعُشْرِ".
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ میں ان پھلوں میں سے (زكاة كا) عشر (دسواں حصہ) وصول کروں جو زمین کی تری سے پیدا ہوتے ہوں، اور جو اونٹوں سے سینچے جائیں اس میں سے بیسواں حصہ زکاۃ لوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1705]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1709] »
اس روایت کی سند حسن ہے، اور اصل اس کی صحیحین میں ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1483] ، [مسلم 981] ، [نسائي 2493] ، [ابن ماجه 1818]
وضاحت: (تشریح حدیث 1704)
مولانا وحیدالزماں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: اہلِ حدیث کا مذہب یہ ہے کہ گیہوں، جَو، جوار، کھجور اور انگور میں جب ان کی مقدار پانچ وسق یا اس سے زیادہ ہو تو زکاة واجب ہے، ان کے سوا دوسری چیزوں میں جیسے ترکاریاں اور میوے وغیرہ میں مطلقاً زکاۃ نہیں خواہ وہ کتنے ہی ہوں۔
قسطلانی نے کہا: میووں میں صرف کھجور اور انگور میں اور اناجوں میں سے ہر ایک اناج میں جو ذخیرہ رکھے جاتے ہیں جیسے گیہوں، جَو، جوار، مسور، ماش، باجرہ، چنا، لوبیا وغیرہ ان سب میں زکاة ہے، اور حنفیہ کے نزدیک پانچ وسق کی قید بھی نہیں ہے، قلیل ہو یا کثیر سب میں زکاة واجب ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث لا کر ان کا رد کیا ہے، خلاصۂ کلام یہ کہ مذکورہ اجناس پانچ وسق پورے ہونے پر اگر بارش کے پانی، نہر وغیرہ سے سیرابی ہوئی ہے تو دسواں حصہ زکاة ہے اور کنویں سے، اونٹ یا بیل کے ذریعہ جو پانی کھیتی کو دیا گیا اس میں پانچ وسق پورے ہونے پر نصف العشر یعنی بیسواں حصہ زکوٰة ہے اور یہ دینِ رحمت کا بہت ہی عادلانہ نظام ہے جس میں خیر ہی خیر اور برکت ہی برکت ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاذ بن جبل الأنصاري، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← معاذ بن جبل الأنصاري
ثقة
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← مسروق بن الأجدع الهمداني
مخضرم
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر
Newعاصم بن أبي النجود الأسدي ← شقيق بن سلمة الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عاصم بن يوسف اليربوعي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعاصم بن يوسف اليربوعي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ثقة