🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب فى فضل السحور:
سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1735
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ لَهُ الطَّعَامَ يَتَسَحَّرُ بِهِ فَلَا يُصِيبُ مِنْهُ كَثِيرًا، فَقُلْنَا: تَأْمُرُنَا بِهِ وَلَا تُصِيبُ مِنْهُ كَثِيرًا؟ قَالَ: إِنِّي لَا آمُرُكُمْ بِهِ أَنِّي أَشْتَهِيهِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ".
ابوقیس عمرو بن العاص کے غلام نے کہا کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہم کو کھانا رکھنے کا حکم دیتے تھے تاکہ سحری کریں لیکن کچھ زیادہ تناول نہ کرتے، ہم نے عرض کیا: آپ ہمیں کھانا رکھنے کا حکم تو دیتے ہیں لیکن کچھ زیادہ تناول نہیں فرماتے؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں اس لئے کھانا رکھنے کا حکم نہیں دیتا کہ مجھے کھانے کی بہت زیادہ اشتہاء ہوتی ہے، بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے ہیں: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق یہ ہی سحری کھانا ہے (اس لئے تھوڑا سا کھا لیتا ہوں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1739] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھے: [مسلم 1096] ، [أبوداؤد 2343] ، [ترمذي 708] ، [نسائي 2165] ، [أبويعلی 7337]
وضاحت: (تشریح احادیث 1733 سے 1735)
پہلی حدیث سے سحری کھانے کی فضیلت ثابت ہوئی کہ اس میں برکت ہے، روزے دار کو تقویت ملتی ہے، سحری کے لئے صائم اٹھتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، اس کی خوشنودی کے لئے کھانے سے فارغ ہو کر نماز باجماعت پڑھتا ہے، یہ سب فضیلتیں حاصل ہوتی ہیں۔
دوسری حدیث میں بتایا گیا کہ اہلِ کتاب سحری نہیں کرتے اس لئے تم سحری کرو، ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے کھانے کو «الغذاء المبارك» کہا اور نسائی شریف کی ایک روایت میں ہے کہ سحری اللہ تعالیٰ کے عطیات میں سے ہے اس کو چھوڑو نہیں، ان تمام روایات سے سحری کھانے کی فضیلت ثابت ہوئی، اس لئے اس کو چھوڑنا نہ چاہیے، چاہے چند لقے ہی سہی سحری ضرور کرنی چاہیے جیسا کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ و دیگر صحابہ کرام کیا کرتے تھے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن العاص القرشي، أبو محمد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن ثابت المصري، أبو قيس
Newعبد الرحمن بن ثابت المصري ← عمرو بن العاص القرشي
ثقة
👤←👥علي بن رباح اللخمي، أبو موسى، أبو عبد الله
Newعلي بن رباح اللخمي ← عبد الرحمن بن ثابت المصري
ثقة
👤←👥موسى بن علي اللخمي، أبو عبد الرحمن
Newموسى بن علي اللخمي ← علي بن رباح اللخمي
ثقة
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newوهب بن جرير الأزدي ← موسى بن علي اللخمي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 1735 in Urdu