🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب فى وصال شعبان برمضان:
شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے ملا دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1777
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: "مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ شَهْرًا تَامًّا إِلَّا شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ لِيَكُونَا شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، وَكَانَ يَصُومُ مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ , وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے شعبان کے کسی مہینے میں پورے مہینے کے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ شعبان کے روزوں کو رمضان سے ملا دیا کرتے تھے تاکہ پورے دو مہینے کے مسلسل روزے ہو جائیں، آپ مہینے میں روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: اب آپ افطار نہ کریں گے، پھر افطار کرتے تو ہم کہتے تھے: اب روزہ نہ رکھیں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1777]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1780] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2336] ، [ترمذي 736] ، [نسائي 2174] ، [ابن ماجه 1648] ، [أبويعلی 6970]
وضاحت: (تشریح حدیث 1776)
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے شعبان کے روزے رکھنے کا ذکر ہے، لیکن بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں پورے شعبان کے روزے رکھنے کی ممانعت ہے جو اس حدیث پر مقدم ہے۔
کیونکہ قول و فعل کے تعارض میں قول مقدم ہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ جو کوئی تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھے تو اس کی تصدیق نہ کرنا۔
اسی طرح حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (1514) میں گذر چکا ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھے۔
آگے حدیث نمبر (1781) میں بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔
اس لئے 15 شعبان کے بعد روزہ نہیں رکھنا چاہئے، والله اعلم۔
احتیاط اسی میں ہے کہ پندرہ شعبان کے بعد رمضان شروع ہونے تک روزے نہ رکھے جائیں جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أم سلمة زوج النبي
ثقة إمام مكثر
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة يتشيع