سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. باب فى صيام يوم عرفة:
عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1802
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَوْمُ عَرَفَةَ، وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوم عرفہ اور ایام التشریق ہماری اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور یہ کھانے پینے کے ایام ہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1805] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2419] ، [ترمذي 773] ، [نسائي 3004] ، [ابن حبان 3603]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2419] ، [ترمذي 773] ، [نسائي 3004] ، [ابن حبان 3603]
وضاحت: (تشریح حدیث 1801)
عرفہ کا دن نو ذوالحجہ اور ایام التشريق 10 ذی الحجہ سے 13 ذی الحجہ تک ہیں، ان دنوں میں حاجی کے لئے روزہ رکھنا درست نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے حاجی کے لئے مشقت ناقابلِ برداشت ہو جائے تو وہ کما حقہ دعا و اذکار نہ کر سکے۔
عرفہ کا دن نو ذوالحجہ اور ایام التشريق 10 ذی الحجہ سے 13 ذی الحجہ تک ہیں، ان دنوں میں حاجی کے لئے روزہ رکھنا درست نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے حاجی کے لئے مشقت ناقابلِ برداشت ہو جائے تو وہ کما حقہ دعا و اذکار نہ کر سکے۔
الرواة الحديث:
علي بن رباح اللخمي ← عقبة بن عامر الجهني