🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب فى صيام يوم عاشوراء:
عاشوراء کے روزے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1801
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، حَتَّى إِذَا فُرِضَ رَمَضَانُ، كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ، وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں قریش عاشوراء کے دن روزہ رکھا کرتے تھے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا یہاں تک کہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو یہ فریضہ ہو گئے اور عاشورا کو ترک کر دیا، جس نے چاہا روزہ رکھا اور جس نے چاہا چھوڑ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1804] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1893، 2001، 2002] ، [مسلم 1125] ، [أبوداؤد 2442] ، [ترمذي 753] ، [أبويعلی 4638] ، [ابن حبان 3621] ، [الحميدي 202، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1800)
ان تمام احادیث سے عاشورا کے روزے کی فضیلت و اہمیت معلوم ہوئی اس لئے محرم کی دس تاریخ کا روزہ رکھنا مستحب ہے نیز ایک دن قبل یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھنا چاہیے۔
علمائے کرام نے اس کی تین صورتیں ذکر کی ہیں: نو دس گیارہ تین دن تک کا روزہ رکھے یا نو اور دس دو دن کا روزہ رکھے یا دس اور گیارہ کا روزہ رکھے۔
پہلی صورت سب سے افضل ہے، اور صرف دس محرم کا روزہ رکھنے کو علمائے کرام نے مکروہ کہا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں آئندہ سال بقیدِ حیات رہا تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔
ایک اور حدیث ہے کہ یہودی دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں، تم ان کی مخالفت کرو اور نو اور دس کا روزہ رکھو، اس روزے کی فضیلت کے بارے میں فرمایا کہ اس سے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، الله تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عنایت فرمائے۔
آمین۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥شعيب بن إسحاق القرشي، أبو محمد
Newشعيب بن إسحاق القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥عبد الوهاب بن سعيد المفتي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن سعيد المفتي ← شعيب بن إسحاق القرشي
صدوق حسن الحديث