🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب فى القران:
حج قران کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1851
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِلَالٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ بَعْدُ، إِنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ وَإِنَّ ابْنَ زِيَادٍ أَمَرَنِي فَاكْتَوَيْتُ، فَاحْتُبِسَ عَنِّي حَتَّى ذَهَبَ أَثَرُ الْمَكَاوِي، وَاعْلَمْ أَنَّ "الْمُتْعَةَ حَلَالٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ، لَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِيٌّ، وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ"، قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا بَدَا لَهُ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں بعد میں اس سے فائدہ پہنچائے، مجھ سے فرشتے سلام کرتے تھے، ابن زیاد نے مجھ کو حکم دیا مسوں کو داغ لگا لوں، (چنانچہ ایسا کرنے پر) وہ سلام رک گیا یہاں تک کہ میرے داغنے کا نشان ختم ہو گیا (تو پھر سلام ہونے لگا)، اور سنو عمرے کے بعد احرام کھول دینے کو کتاب اللہ نے حلال کیا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس سے روکا اور نہ قرآن پاک میں اس کی ممانعت آئی، ایک آدمی نے اپنی رائے سے صحیح سمجھتے ہوئے ایسا کہہ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1851]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل أبي هلال الراسبي: محمد بن سليم ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1854] »
اس روایت کی سند حسن اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1571] ، [مسلم 1226 فى كتاب الحج: باب جواز التمتع] ، [أحمد 436/4] ، [ابن حبان 3937]
وضاحت: (تشریح حدیث 1850)
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ امیر المومنین سیدنا عثمان و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما حجِ تمتع یا عمرے کے بعد احرام کھول دینے سے منع کرتے تھے اشارہ انہیں کی طرف ہے، یہ ان کا اجتہاد تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ قران کیا تھا اور عمرے کے بعد بھی احرام کی حالت میں رہے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ احرام کھول دو، اگر میں ہدی نہ لایا ہوتا تو میں بھی ایسا ہی کرتا، اس لئے اکثر صحابہ نے احرام کھول دیا تھا اور متعہ یا تمتع کے قائل تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کی مخالفت کرتے تھے، تفصیل آگے 78 ویں باب میں آ رہی ہے۔
نیز سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا قضیہ یہ ہے کہ انہیں بواسیر کا شدید مرض تھا لیکن وہ صبر کرتے تھے اور اللہ سے اجر کے متمنی تھے اس لئے فرشتے ان سے آ کر سلام کرتے تھے، جب انہوں نے بواسیری مسوں کو آگ سے دغوا لیا تو سلام کا یہ سلسلہ موقوف ہو گیا۔
اس میں اس صحابیٔ جلیل کی عظمت و منزلت ہے کہ فرشتے آ کر سلام کرتے ہیں اور بالکل یہی کیفیت کہ: دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔
(رضی اللہ عنہ و ارضاه)۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥مطرف بن عبد الله الحرشي، أبو عبد الله
Newمطرف بن عبد الله الحرشي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← مطرف بن عبد الله الحرشي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥محمد بن سليم الراسبي، أبو هلال
Newمحمد بن سليم الراسبي ← قتادة بن دعامة السدوسي
صدوق فيه لين
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← محمد بن سليم الراسبي
ثقة إمام حافظ