🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب فى الحج عن الميت:
متوفی کی طرف سے حج کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1875
أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ، يُقَالُ لَهُ: يُوسُفُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَوْ الزُّبَيْرُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ. قَالَ:"أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ، قُبِلَ مِنْهُ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:"اللَّهُ أَرْحَمُ، حُجَّ عَنْ أَبِيكَ".
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: میرے والد بہت بوڑھے ہیں، حج نہیں کر سکتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم وہ قرض ادا کرتے تو ان کی طرف سے وہ قرض قبول کر لیا جاتا؟ عرض کیا: جی ہاں، فرمایا: پس الله تعالیٰ بہت رحیم ہے، اور باپ کی طرف سے حج کرو۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے تمہارے والد کی طرف سے کیا گیا یہ حج قبول کر لے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1875]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1879] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 6818] ، [مشكل الآثار 221/3] ، [مجمع الزوائد 5756]
وضاحت: (تشریح حدیث 1874)
امام دارمی رحمہ اللہ نے باب باندھا کہ میّت کی طرف سے حج کرنے کا بیان، لیکن دونوں حدیث میں باپ کے زندہ و موجود ہونے کا ذکر ہے، اس سے شاید امام صاحب کا مقصود یہ ہے کہ ماں باپ حج نہ کر سکے یا معذور و زنده ہوں ہر صورت میں ان کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے، دوسری روایات میں فوت ہو جانے کا بھی ذکر ہے۔
اور ایک روایت میں ہے: «حُجَّ عَنْ أَبِيْكَ وَاعْتَمِرْ» اپنے باپ کی طرف سے حج بھی کرو اور عمرہ بھی۔
نسائی (2638)۔
شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ بھی اس کے قائل تھے کہ ماں باپ کی طرف سے حج اور عمرہ کرنا درست ہے لیکن صرف طواف کرنا صحیح نہیں کیوں کہ احادیث میں کسی اور کی طرف سے طواف کرنے کا حکم نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سودة بنت زمعة القرشية، أم الأسودصحابي
👤←👥يوسف بن الزبير القرشي
Newيوسف بن الزبير القرشي ← سودة بنت زمعة القرشية
مقبول
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← يوسف بن الزبير القرشي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عبد العزيز بن عبد الصمد العمي، أبو عبد الصمد
Newعبد العزيز بن عبد الصمد العمي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ
👤←👥صالح بن عبد الله الباهلي، أبو عبد الله
Newصالح بن عبد الله الباهلي ← عبد العزيز بن عبد الصمد العمي
ثقة