سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب فى المحرم إذا مات ما يصنع به:
حالت احرام میں کسی کا انتقال ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 1892
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
اس سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب سابق روایت کیا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1892]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1896] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أحمد 46/6، 139] ، [ابن ابي شيبه 32/4] ، [عبدالرزاق 8961] ، [الحاكم 459/1] ، [البيهقي 145/5]
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أحمد 46/6، 139] ، [ابن ابي شيبه 32/4] ، [عبدالرزاق 8961] ، [الحاكم 459/1] ، [البيهقي 145/5]
وضاحت: (تشریح احادیث 1890 سے 1892)
ان احادیث و روایات سے معلوم ہوا کہ طواف، سعی، اور رمی کے دوران ذکر الٰہی میں مشغول رہنا چاہیے، جیسا کہ نماز کے لئے قرآن پاک میں آیا: «﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [طه: 14] » لہٰذا ان اعمال و ارکانِ حج میں فالتو باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے اور وقتِ ضرورت بات کی جا سکتی ہے جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے۔
واللہ اعلم۔
ان احادیث و روایات سے معلوم ہوا کہ طواف، سعی، اور رمی کے دوران ذکر الٰہی میں مشغول رہنا چاہیے، جیسا کہ نماز کے لئے قرآن پاک میں آیا: «﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [طه: 14] » لہٰذا ان اعمال و ارکانِ حج میں فالتو باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے اور وقتِ ضرورت بات کی جا سکتی ہے جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے۔
واللہ اعلم۔
الرواة الحديث:
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق