🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب فى التحصيب:
مکۃ المکرّمہ جاتے ہوئے وادی محصب میں اترنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1908
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:"التَّحْصِيبُ لَيْسَ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: التَّحْصِيبُ مَوْضِعٌ بِمَكَّةَ، وَهُوَ مَوْضِعٌ بِبَطْحَاءَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: محصب میں اترنا حج میں شامل نہیں، یہ تو بس ایسی جگہ تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: تحصیب مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے جو وادی بطحاء میں ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1908]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1912] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور بخاری و مسلم نے صحیحین میں اس کو ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1766] ، [مسلم 1312] ، [أبويعلی 2397] ، [الحميدي 506]
وضاحت: (تشریح حدیث 1907)
سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما اس مقام پر پڑاؤ ڈالا کرتے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بعض دیگر صحابہ فرماتے تھے کہ وہاں رکنا اور ٹھہرنا ضروری نہیں اور یہ نہ شعائرِ حج میں سے ہے نہ ارکان و واجباتِ حج میں سے، بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف وہاں نزول و قیام فرمایا۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن أبي خلف السلمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي خلف السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة