سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. باب فيمن قدم نسكه شيئا قبل شيء:
ارکان حج میں تقدیم و تاخیر کا بیان
حدیث نمبر: 1946
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ لِلنَّاسِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ قَالَ:"لَا حَرَجَ". قَالَ: لَمْ أَشْعُرْ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ:"لَا حَرَجَ". فَلَمْ يُسْأَلْ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ أَوْ أُخِّرَ إِلَّا قَالَ:"لَا حَرَجَ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: أَنَا أَقُولُ بِهَذَا، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يُشَدِّدُونَ..
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں (جواب دینے کے لئے) کھڑے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال منڈا لئے ہیں؟ فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، دوسرے نے کہا: مجھے معلوم نہ تھا اور میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی؟ فرمایا: ”کوئی حرج کی بات نہیں“، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جس میں تقدیم یا تاخیر ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہ ہی فرمایا: ” «لا حرج» “ (کوئی حرج نہیں)۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں بھی اسی کا قائل ہوں لیکن کوفہ والے اس بارے میں سختی برتتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1946]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1950] »
اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔ مزید مراجع کے لئے دیکھئے: [بخاري 124] ، [الموطأ: كتاب الحج 251، وغيرهم]
اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔ مزید مراجع کے لئے دیکھئے: [بخاري 124] ، [الموطأ: كتاب الحج 251، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح احادیث 1944 سے 1946)
دس ذوالحجہ کو حاجی کو چار کام کرنے ہوتے ہیں: رمی، قربانی، حلق یا تقصیر اور طوافِ زیارہ، یہ ارکان اسی ترتیب سے افضل ہیں، اگر تقدیم یا تأخیر ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، آگے پیچھے ان چاروں ارکان کے ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں، نہ یہ کوئی گناہ ہے اور نہ اس پر فدیہ، اہلِ حدیث، شافعیہ اور حنابلہ کا یہی مذہب ہے، حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک ترتیب واجب ہے اور اس کے خلاف کرنے پر دم لازم آئے گا، لیکن ان حضرات کا یہ قول حدیث ہذا کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابلِ توجہ نہیں۔
ہوتے ہوئے مصطفیٰ کی گفتار
مت دیکھے کسی کا قول و کردار
امام دارمی رحمہ اللہ نے اہلِ کوفہ کا ذکر کیا ہے اس سے مراد حنفیہ ہیں جو دم لازم کر کے تشدد و سختی برتتے ہیں۔
دس ذوالحجہ کو حاجی کو چار کام کرنے ہوتے ہیں: رمی، قربانی، حلق یا تقصیر اور طوافِ زیارہ، یہ ارکان اسی ترتیب سے افضل ہیں، اگر تقدیم یا تأخیر ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، آگے پیچھے ان چاروں ارکان کے ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں، نہ یہ کوئی گناہ ہے اور نہ اس پر فدیہ، اہلِ حدیث، شافعیہ اور حنابلہ کا یہی مذہب ہے، حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک ترتیب واجب ہے اور اس کے خلاف کرنے پر دم لازم آئے گا، لیکن ان حضرات کا یہ قول حدیث ہذا کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابلِ توجہ نہیں۔
ہوتے ہوئے مصطفیٰ کی گفتار
مت دیکھے کسی کا قول و کردار
امام دارمی رحمہ اللہ نے اہلِ کوفہ کا ذکر کیا ہے اس سے مراد حنفیہ ہیں جو دم لازم کر کے تشدد و سختی برتتے ہیں۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عيسى بن طلحة القرشي، أبو محمد عيسى بن طلحة القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عيسى بن طلحة القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
عيسى بن طلحة القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي