سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب ما يجوز به الذبح:
کس چیز سے ذبح کرنا جائز ہے؟
حدیث نمبر: 2010
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَرْعَى لِآلِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ غَنَمًا بِسَلْعٍ، فَخَافَتْ عَلَى شَاةٍ مِنْهَا أَنْ تَمُوتَ، فَأَخَذَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، وَإِنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت (لونڈی) سلع پہاڑی پر آل کعب بن مالک کی بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک دن ان بکریوں میں سے ایک کے مر جانے کا اسے خوف ہوا تو اس نے ایک پتھر لیا (جو دھار دار تھا) اور اس مرتی ہوئی بکری کو اس سے ذبح کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورت کے پتھر سے ذبح کرنے کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کو کھانے کا حکم فرمایا: (یعنی وہ حلال اور اس کا گوشت بھی حلال تھا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2010]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2014] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5503، 5505] ، [ابن حبان 5892] ، [موارد الظمآن 1075] ، [ابن ماجه 3182]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5503، 5505] ، [ابن حبان 5892] ، [موارد الظمآن 1075] ، [ابن ماجه 3182]
وضاحت: (تشریح حدیث 2009)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سے عورت اور لونڈی کے ہاتھ سے ذبح کئے ہوئے جانور کے حلال ہونے پر استدلال کیا ہے، نیز یہ کہ پتھر اگر دھار دار ہے تو اس سے ذبح کرنا جائز ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ایک روایت (5503) ہے: «مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَ ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ فَكُلْ ..... إلخ.» جب لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی ہے کیسے ذبح کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو (دهار دار) چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو تو اس سے ذبح کیا ہوا جانور کھا سکتے ہو، لیکن وہ ناخن اور دانت سے ذبح نہ کیا گیا ہو، کیونکہ ناخن حبشیوں کی چھری ہے اور دانت کا شمار ہڈی میں ہے جس سے ذبح کرنا ممنوع ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سے عورت اور لونڈی کے ہاتھ سے ذبح کئے ہوئے جانور کے حلال ہونے پر استدلال کیا ہے، نیز یہ کہ پتھر اگر دھار دار ہے تو اس سے ذبح کرنا جائز ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ایک روایت (5503) ہے: «مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَ ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ فَكُلْ ..... إلخ.» جب لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی ہے کیسے ذبح کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو (دهار دار) چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو تو اس سے ذبح کیا ہوا جانور کھا سکتے ہو، لیکن وہ ناخن اور دانت سے ذبح نہ کیا گیا ہو، کیونکہ ناخن حبشیوں کی چھری ہے اور دانت کا شمار ہڈی میں ہے جس سے ذبح کرنا ممنوع ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← يحيى بن سعيد الأنصاري | ثقة متقن |
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي