سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب النهي عن لبس جلود السباع:
درندوں کی کھال اوڑھنے (استعمال کرنے) کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2023
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ عن قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ابوملیح نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2023]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2027] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4132، وغيره من المراجع المذكورة آنفا]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4132، وغيره من المراجع المذكورة آنفا]
وضاحت: (تشریح حدیث 2022)
ان روایات سے درندوں کی کھال بچھانے اور پہننے کی ممانعت ثابت ہوئی کیونکہ دنیا داروں میں ان کا بچھانا اور پہننا باعثِ نخوت و تکبر ہوتا ہے، (وحیدی)۔
ابوداؤد کی ایک روایت (4128) میں ہے: جن لوگوں کے پاس چیتے کی کھال ہو ان سے فرشتے جدا ہو جاتے ہیں۔
اس لئے شیر چیتے کی کھالوں پر بیٹھنا جائز نہیں۔
ان روایات سے درندوں کی کھال بچھانے اور پہننے کی ممانعت ثابت ہوئی کیونکہ دنیا داروں میں ان کا بچھانا اور پہننا باعثِ نخوت و تکبر ہوتا ہے، (وحیدی)۔
ابوداؤد کی ایک روایت (4128) میں ہے: جن لوگوں کے پاس چیتے کی کھال ہو ان سے فرشتے جدا ہو جاتے ہیں۔
اس لئے شیر چیتے کی کھالوں پر بیٹھنا جائز نہیں۔
الرواة الحديث:
أبو المليح بن أسامة الهذلي ← أسامة بن عمير الهذلي