الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب النهي عن النهبة:
لوٹ مار رہزنی کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2034
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النُّهْبَةِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هَذَا فِي الْغَزْوِ إِذَا غَنِمُوا قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ.
عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار سے منع فرمایا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اس سے مراد غزوات میں تقسیم سے پہلے کی مال غنیمت کی لوٹ مار ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2034]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2038] »
اس حدیث کی سند جید ہے اور حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3474] ، [ابن حبان 3267، 5170] ، [موارد الظمآن 1270، 1680] ، [أحمد 62/5] ، [ابن ابي شيبه 2369] ، [طحاوي مشكل الآثار 130/1] ۔ ابولبید کا نام لمازہ بن زبار ہے۔
اس حدیث کی سند جید ہے اور حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3474] ، [ابن حبان 3267، 5170] ، [موارد الظمآن 1270، 1680] ، [أحمد 62/5] ، [ابن ابي شيبه 2369] ، [طحاوي مشكل الآثار 130/1] ۔ ابولبید کا نام لمازہ بن زبار ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 2033)
لوٹ مار کسی وقت بھی جائز نہیں، خواہ وہ مال غنیمت کی ہو یا کسی اور کے مال کی، ارشادِ ربانی ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ...﴾ [النساء: 29] » ”اے مومنو! تم ایک دوسرے کے مال کو باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔
“ اس حدیث میں لوٹ مار اور رہزنی سے منع کیا گیا ہے اور یہ حرام ہے۔
لوٹ مار کسی وقت بھی جائز نہیں، خواہ وہ مال غنیمت کی ہو یا کسی اور کے مال کی، ارشادِ ربانی ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ...﴾ [النساء: 29] » ”اے مومنو! تم ایک دوسرے کے مال کو باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔
“ اس حدیث میں لوٹ مار اور رہزنی سے منع کیا گیا ہے اور یہ حرام ہے۔
الرواة الحديث:
لمازة بن زبار الأزدي ← عبد الرحمن بن سمرة القرشي