Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب فى الضيافة:
مہمان نوازی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2076
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ: أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَافَ قَوْمًا، فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا، فَإِنَّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرَهُ حَتَّى يَأْخُذَ لَهُ بِقِرَى لَيْلَتِهِ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ".
سیدنا ابوکریمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی کسی قوم کا مہمان بنا (یعنی ان کے پاس مہمان بن کر آیا) اور صبح تک ویسے ہی بے نصیب رہا (یعنی کسی نے اس کی مہمان داری نہ کی) تو اس کی مدد کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے یہاں تک کہ وہ مہمان اپنی مہمانی اس قوم کی زراعت اور مال میں سے لے سکتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2076]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2080] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3751] ، [ابن ماجه 3677] ، [أحمد 131/4، 133] ، [مشكل الآثار للطحاوي 40/4] ، [دارقطني 287/4] ، [ابن حبان 5288] ، اور [بخاري 3461] و [مسلم 1727] میں بھی اس کا شاہد موجود ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 2075)
یعنی جن کا مہمان ہو ان کے مال و زر میں سے اس قدر بلا اجازت لے سکتا ہے جس میں اس کی آسودگی ہو، یہ حدیث ابتدائے اسلام کی ہے جب مہمانی واجب تھی، لیکن اب سنّتِ مؤکدہ اور اخلاقِ حسنہ کی نشانی ہے۔
اور مہمانی نہ کرنا بدخلقی، بے مروّتی اور باعثِ شقاوت ہے۔
نیز وجوب صرف پہلی رات کے لئے ہے کیونکہ رات کو مسافر کو نہ کھانا مل سکتا ہے نہ بازار معلوم ہوتا ہے تو صاحبِ خانہ پر اس کے کھانے پینے کا سامان کر دینا واجب ہے، البتہ دوسرے دن صبح کو اس پر مہمانی کرنا واجب نہیں کیونکہ مہمان دن کو سب سامان کر سکتا ہے، یہ وجوب علماء کے ایک گروہ کے نزدیک اب بھی باقی ہے اور جمہور کہتے ہیں کہ وجوب منسوخ ہو گیا لیکن سنّت ہونا اب بھی باقی ہے، تو ایک دن رات مہمانی کرنا سنّتِ مؤکدہ یعنی ضروری ہے اور تین دن مستحب ہے، اور تین دن بعد پھر مہمانی نہیں، اب مہمان کو لازم ہے کہ چل دیوے یا اپنے کھانے پینے کا اہتمام الگ کر لیوے، میزبان پر بوجھ نہ ڈالے (وحیدی بتصرف)۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المقدام بن معدي كرب الكندي، أبو يحيى، أبو كريمةصحابي
👤←👥سعيد بن أبي المهاجر الشامي
Newسعيد بن أبي المهاجر الشامي ← المقدام بن معدي كرب الكندي
مجهول
👤←👥الحارث بن عمير الأسدي، أبو الجودي
Newالحارث بن عمير الأسدي ← سعيد بن أبي المهاجر الشامي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الحارث بن عمير الأسدي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن