سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب من شرب بنفس واحد:
ایک سانس میں پانی پینے کا بیان
حدیث نمبر: 2158
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ فَجَاءَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: "فَأَبِنْ الْإِنَاءَ عَنْ فِيكَ، ثُمَّ تَنَفَّسْ". قَالَ: إِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ؟ قَالَ:"أَهْرِقْهُ".
ابوالمثنی نے کہا: میں مروان کے پاس تھا کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور بیان کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب پھر پیالے کو اپنے منہ سے ہٹاؤ اور پھر سانس لے لو“، عرض کیا: میں اس میں کوڑا دیکھوں تو؟ فرمایا: ”اسے بہا دو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2158]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2167] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1887] ، [ابن حبان 5327] ، [الموارد 1367] ، [أحمد 57/3] ، [بغوي فى شرح السنة 3036]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1887] ، [ابن حبان 5327] ، [الموارد 1367] ، [أحمد 57/3] ، [بغوي فى شرح السنة 3036]
وضاحت: (تشریح حدیث 2157)
ظاہراً اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک سانس میں پانی پی سکتے ہیں، نیز یہ کہ سانس لیتے وقت برتن منہ سے دور رکھنا چاہیے۔
ظاہراً اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک سانس میں پانی پی سکتے ہیں، نیز یہ کہ سانس لیتے وقت برتن منہ سے دور رکھنا چاہیے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥أبو المثنى الجهني، أبو المثنى أبو المثنى الجهني ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥أيوب بن حبيب الزهري أيوب بن حبيب الزهري ← أبو المثنى الجهني | ثقة | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← أيوب بن حبيب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥إسحاق بن عيسى البغدادي، أبو يعقوب إسحاق بن عيسى البغدادي ← مالك بن أنس الأصبحي | صدوق حسن الحديث |
أبو المثنى الجهني ← أبو سعيد الخدري