سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب تنكح المرأة على أربع:
عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 2208
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، بِهَذَا الْحَدِيثِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2208]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2217] »
ترجمہ و تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
ترجمہ و تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 2206 سے 2208)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عموماً لوگوں کی عادت یہ ہے کہ مال و جمال حسب نسب کے طالب ہوتے ہیں سو دیندار کو لازم ہے کہ ان سب خصلتوں پر دین کو مقدم جانے تاکہ نیک صحبت حاصل ہو اور نیکی کی برکت سے الله تعالیٰ اس کو حسنِ خلق اور حسنِ معاشرت بھی عنایت کرے گا اور نیکی کے سبب دینی و دنیوی فتنوں سے محفوظ رہے گا۔
«تَرِبَتْ يَدَاكَ» ”تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“، یہ بد دعا نہیں ایک جملہ ہے جو عام بول چال میں استعمال ہوتا ہے، اور کسی چیز پر ابھارنا اس سے مقصود ہوتا ہے، اسی طرح «لَا أُمَّ لَهُ، لَا أَبَالَكْ، وَيْلٌ لِأُمِّهِ» وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو محاورةً استعمال ہوتے ہیں اور جن کا معنی مراد نہیں ہوتا۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عموماً لوگوں کی عادت یہ ہے کہ مال و جمال حسب نسب کے طالب ہوتے ہیں سو دیندار کو لازم ہے کہ ان سب خصلتوں پر دین کو مقدم جانے تاکہ نیک صحبت حاصل ہو اور نیکی کی برکت سے الله تعالیٰ اس کو حسنِ خلق اور حسنِ معاشرت بھی عنایت کرے گا اور نیکی کے سبب دینی و دنیوی فتنوں سے محفوظ رہے گا۔
«تَرِبَتْ يَدَاكَ» ”تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“، یہ بد دعا نہیں ایک جملہ ہے جو عام بول چال میں استعمال ہوتا ہے، اور کسی چیز پر ابھارنا اس سے مقصود ہوتا ہے، اسی طرح «لَا أُمَّ لَهُ، لَا أَبَالَكْ، وَيْلٌ لِأُمِّهِ» وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو محاورةً استعمال ہوتے ہیں اور جن کا معنی مراد نہیں ہوتا۔
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري