🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب النهي عن متعة النساء:
عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2234
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِمَا، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا , يَقُولُ لِابْنِ عَبَّاسٍ:"إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ: مُتْعَةِ النِّسَاءِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ عَامَ خَيْبَرَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے خیبر کے سال منع فرما دیا تھا۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2234]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2243] »
اس حدیث کی سند صحیح متفق علیہ ہے۔ تخریج حدیث رقم (2032) پرگذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 2231 سے 2234)
متعہ کسی عورت سے ایک مقررہ وقت تک کے لئے نکاح کرنے کو کہتے ہیں، جب مقررہ وقت پورا ہو جاتا ہے تو ان کے درمیان خود بخود جدائی ہو جاتی ہے۔
اس طرح نکاح کرنا اب قیامت تک کے لئے حرام ہے، اس پر تمام ائمہ اور علماء و فقہاء کا اجماع ہے سوائے چند روافض کے۔
متعہ کب حرام ہوا اس بارے میں مختلف روایات کے سبب مختلف اقوال ہیں، پہلی حدیث میں ہے کہ حجۃ الوداع میں اس کی قطعی حرمت کا اعلان ہوا، حدیث صحیح ہے لیکن راوی کو وہم ہوا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ فتح مکہ 8ھ میں اس کو حرام قرار دیا گیا، یہی زیادہ صحیح ہے۔
تیسری روایت میں ہے کہ خیبر کے سال سن 7ھ کا ذکر ہے، اور یہ روایت بھی صحیح متفق علیہ ہے اس لئے علماء نے کہا متعہ کی حرمت و اجازت دو مرتبہ ہوئی یعنی خیبر اور فتح مکہ کے دن۔
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ وغیرہ نے بڑے مضبوط دلائل سے ثابت کیا ہے کہ حرمت صرف ایک بار فتح مکہ ہی میں ہوئی اس سے پہلے متعہ جائز تھا جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: «﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ [النساء: 24] » اور اب قیامت تک باجماعِ امّت مدتِ معینہ کے لئے کسی عورت سے نکاح کرنا حرام ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے [زاد المعاد 111/5] ۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پالتو گدھے کا گوشت بھی حرام ہے جو بلاشبہ غزوۂ خیبر میں حرام ہوا۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥محمد بن الحنفية الهاشمي، أبو عبد الله، أبو القاسم
Newمحمد بن الحنفية الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن الحنيفة الهاشمي، أبو هاشم
Newعبد الله بن الحنيفة الهاشمي ← محمد بن الحنفية الهاشمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن الحنفية الهاشمي، أبو محمد
Newالحسن بن الحنفية الهاشمي ← عبد الله بن الحنيفة الهاشمي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← الحسن بن الحنفية الهاشمي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة