🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب بناء الرجل بأهله فى شوال:
شب زفاف شوال کے مہینے میں ہونی چاہئیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2248
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟"قَالَت:"وَكَانَتْ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ عَلَى النِّسَاءِ فِي شَوَّالٍ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں مجھ سے نکاح کیا اور شوال میں ہی مجھ سے صحبت کی، پھر کون سی بیوی مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیضیاب تھی؟ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ ان کی رشتہ دار عورتوں کی شوال میں رخصتی ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2248]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2257] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1423] ، [ترمذي 1093] ، [نسائي 3236] ، [ابن ماجه 1990] ، [أحمد 206/6، 54] ، [ابن حبان 4058]
وضاحت: (تشریح حدیث 2247)
شوال کا مہینہ عید کی خوشی کا مہینہ ہے اس وجہ سے اس میں نکاح کرنا بہتر ہے، اور دورِ جاہلیت میں لوگ اس مہینہ کو منحوس جانتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تصور کو مٹانے کے لئے شوال میں نکاح کیا اور شبِ زفاف بھی منائی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس باطل تصور کے بطلان کے لئے کافی ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مہینہ میں نکاح اور صحبت کی، اور میں ہی سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی تھی اور سب سے زیادہ محظوظ بھی، شادی گو ہر مہینے اور کسی بھی دن و تاریخ میں کی جا سکتی ہے مگر جو چیز کافروں فاسقوں کے اوہام و خیالات، عورتوں کی جہالت، شرعی دلیل کے بغیر رائج ہو، عوام اس کو منحوس سمجھیں، اسی مہینہ میں نکاح اور خوشی کرنی چاہیے تاکہ عوام کے دل سے یہ بے اصل بات نکل جائے، شرع کی رو سے شوال کا مہینہ، اسی طرح محرم یا صفر کا مہینہ کوئی بھی منحوس نہیں، بے کھٹکے ان مہینوں میں نکاح کرنا چاہیے، اور تیرہ تیزی کا تصور و عقیدہ بالکل لغو جاہل عورتوں کی ایجاد ہے۔
(وحیدی بتصرف)۔


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥عبد الله بن عروة القرشي، أبو بكر
Newعبد الله بن عروة القرشي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥إسماعيل بن أمية الأموي
Newإسماعيل بن أمية الأموي ← عبد الله بن عروة القرشي
ثقة حافظ ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← إسماعيل بن أمية الأموي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← سفيان الثوري
ثقة يتشيع
Sunan Darmi Hadith 2248 in Urdu